توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page v
{ iv } کے لئے رحمت، محبت، اخوت، سهولت، دوستی، صلح و آشتی، عفو و در گزر، صبر ووفا، ایثار و پیار اور برداشت کے اعلیٰ ، بلند اور بیمثال نمونے بھی پیش فرمائے اور قیامت تک قائم رہنے والے محکم درس بھی دیئے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت بھی ہے اور انسانی تحفظ کی تاریخ کا ایک سنہرا اور کھلا ہو ا باب ہے۔جس کی تفصیل قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے انشاء اللہ۔قارئین یہ بھی واضح طور پر مشاہدہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی علیم نے شریعت میں کسی جگہ بھی توہین و تنقیص رسول کی سزا قتل تو کجا ذرہ برابر جبر و تشدد بھی قرار نہیں دی۔اس سب کچھ کے باوجود بد قسمتی یہ ہے کہ خود کو اسی رحمتِ عالم ا کی طرف منسوب کرنے والے اپنے بعض غلط اور جھوٹے نظریات کی اتباع میں قتل و خون اور جبر و ظلم کے علمبر دار بن گئے ہیں۔انہوں نے توہین رسول کے نعرے کو کشت و خون کا ذریعہ بنا کر اپنے خونی عقائد و نظریات کی بنیاد بنالیا ہے۔وہ اپنے خون آشام نظریات یا عزائم کے تحقق کے لئے بعض آیاتِ قرآنیہ کو غلط معنے پہناتے ہیں۔بعض واقعات جو رسول اللہ صلی ایم کی مبارک زندگی میں یا آپ کے بعد رونما ہوئے ان کو غلط منظر اور ماحول میں لا کر پیش کرتے ہیں یا ان کی ایسی تشریحات کرتے ہیں کہ جن کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔علاوہ ازیں انہوں نے ایسی روایات کو بھی رواج دیا ہے جو بے بنیاد تھیں یا سرے سے ہی جھوٹی تھیں۔بہر حال یہ ایک المیہ ہے کہ ان خود ساختہ باطل تشریحات اور جعلی روایات کی بھینٹ چڑھ کر اسلامی دنیا ایک بہت بڑے نقصان سے دو چار ہوئی ہے۔مسلمانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع اس قوم کو تنزل و ادبار کی گہرائیوں میں اتار چکا ہے۔لیکن جو سب سے بڑا اور ناقابل تلافی نقصان اسلام کو پہنچا ہے ، وہ ہمارے آقا و مولی محسن انسانیت، رحمۃ للعلمین حضرت محمد مصطفی علی للی نمک کی بابرکت ذات اور آپ کے حسین ترین چہرے پر ظلم و جبر کے بد نما داغ لگانے کی کارروائی ہے۔اس نے دنیا کو رسول اللہ صلی یم اور آپ کی رحمت کے قریب آنے کی بجائے دور کر دیا ہے اور اسے آپ کے پیغام کو قبول کرنے سے روک