توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page iv
( iii } بسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِم الْكَرِيمَ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوعُوْدَّ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر پیش لفظ ***** نسل انساں میں کشت و خون اور قتل و غارت گری ابتداء سے ہی جاری دکھائی دیتی ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں قرآن کریم نے حضرت آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا ذکر بھی کیا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان مذہبی تھا یا غیر مذہبی ، وہ کسی نہ کسی وجہ سے قتل و خون کرتا ہی چلا آیا ہے۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کو ہلاک کرنے والا انسان جاہل و غیر مہذب بھی تھا اور تہذیب و تعلیم یافتہ بھی۔بلکہ تہذیب و تعلیم یافتہ انسان پہلے بھی اس ظلم میں دو ہاتھ آگے ہی تھا اور ابھی بھی آگے ہی ہے۔بلکہ اب تو وہ لاکھوں انسان ہلاک کر کے بھی تسکین نہیں پاتا۔بہر حال اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کو بیماریوں، درندوں، طوفانوں ، زلزلوں یا دیگر قدرتی آفات نے اتنی تعداد میں ہلاک نہیں کیا جتنی کثرت سے خود انسان نے انسان کو ہلاک کیا ہے۔تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ انسان کو اس قتل و غارت اور ظلم و استبداد سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلام نے بہت بڑا اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔مگر محسن انسانیت ، رحمۃ للعلمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ یکم نے انسانیت کو، انسان کو اور انسان کے خون کو سب سے زیادہ بچایا اور سب سے بڑھ کر کمال تحفظ فراہم فرمایا ہے۔آپ نے بذاتِ خود انسان