توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 28 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 28

توہین رسالت کی سزا { 28 ) قتل نہیں ہے لوگوں کی ایذارساں باتوں، بہتانوں ، سب و شتم اور توہین و تنقیص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بڑی وضاحت کے ساتھ تعلیم نازل فرمائی ہے۔بار بار اور کھول کھول کر یہ تلقین فرمائی ہے کہ ایسا جرم کرنے والوں کی سزا اللہ تعالیٰ خود دے گا۔کسی کو جبر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ہاں! انہیں قرآن کریم کے ذریعے تذکیر و تبلیغ کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا: نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيْدِ“ (ق: 46) ترجمہ : ہم اُسے سب سے زیادہ جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور تو ان پر زبر دستی اصلاح کرنے والا نگران نہیں ہے۔پس قرآن کے ذریعہ اُسے نصیحت کرتا چلا جاجو میری تنبیہہ سے ڈرتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے کس طرح واضح طور پر کھول کر بیان فرمایا ہے کہ کوئی خواہ کچھ بھی کہے ، وہ ان باتوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔وہ ایسی باتیں کرنے والوں پر جبر کرنے سے منع فرماتا ہے۔پس وہ فرماتا ہے کہ کسی توہین کے مرتکب یا سب و شتم کرنے والے کو قتل نہیں کرنا بلکہ اسے قرآن کریم کے مطابق تذکیر و نصیحت کرنی ہے۔پس اگر کسی کو قتل کر دیا جائے تو یہ اللہ تعالی کے اس حکم کی کھلی کھلی نافرمانی ہے۔شاتم کا جبر امسلمان ہونا شاتم رسول کے قتل کے قائل بار بار بعض فقہاء کا یہ قول بھی بیان کرتے ہیں کہ اگر شاتم مسلمان ہو جائے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔قائلین قتل شاتم کے عجیب رنگ ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں کہ جو مسلمان سب و شتم کرے وہ کافر ہو جاتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر شاتم مسلمان ہو جائے تو اسے کچھ نہ کہا جائے گا۔یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔بہر حال اگر یہ بات ہے کہ شاتم مسلمان ہو جائے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا تو عرض ہے کہ یہ بھی بعض