توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 376 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 376

توہین رسالت کی سزا 376 } قتل نہیں ہے انسان اور انسانی خون کے تحفظ کے بعض احکام ***** انسان، انسانیت اور انسانی خون کے تحفظ کی اس سے بڑھ کر دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ رسول الله صلى لم اپنی زندگی کی ابتداء سے انتہاء تک اسی کوشش میں رہے کہ انسانیت کا شرف بھی قائم ہو اور انسان اور اس کا خون بھی ہر طرح سے محفوظ ہو۔چنانچہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقعے پر یعنی اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی امت کو جو تاکیدی حکم ارشاد فرمائے ، ان میں خون خرابے سے بچنے کی بھی پھر پور اور پر زور وصیت تھی۔آپ نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ! إِسْمَعُوْا قَوْلِي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّى لَا أَلْقَاكُمُ بَعْدَ عَامِي هَذَا بِهَذَا الْمَوْقَفِ أَبَداً، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ وَقَدْ بلغت۔“ ( ابن ہشام۔باب حجتہ الوداع) ترجمہ : اے لوگو! میری باتیں غور سے سنو۔کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اگلے سال میں اس جگہ تمہارے درمیان ہوں گا۔اے لوگو! تمہارے لئے ایک دوسرے کے خونوں اور اموال کی حفاظت کرنا اسی طرح واجب ہے جس طرح تم اس دن اور اس مہینے کی حرمت کرتے ہو۔حتی کہ تم اپنے رب سے جاملو۔وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں جو پہلے ہی اس کے پاس پہنچ چکے ہیں، ضرور پوچھے گا۔حجۃ الوداع کے ایک خطبے میں آپ نے یہ بھی فرمایا: ” اے لوگو! جس طرح تمہارا یہ حج کا دن، یہ حج کا مہینہ اور یہ شہر یعنی مکہ مقدس اور محترم ہیں اسی طرح تمہاری جانیں، تمہارے