توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 377
توہین رسالت کی سزا 377} قتل نہیں ہے مال اور تمہاری آبرو بھی مقدس و محترم ہیں (اور ان کو ہر قسم کا قانونی تحفظ حاصل ہے “۔( بخاری کتاب المناسک باب خطبه ایام منی) آپ نے پھر یہ بھی تاکید فرمائی: لا تَرْجِعُوا بَعْدِى كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ( بخاری کتاب المغازی باب حجتہ الوداع کہ میرے بعد بھٹک نہ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔ایک طرف یہ اسوہ رسول صلی علیم ہے اور یہ پاک تعلیمات ہیں جو انسانی خون کی حفاظت کی تا قیامت ضمانت مہیا کرتی ہیں اور دوسری طرف آج کے وہ نام نہاد فقہاء اور علماء ہیں جو اس پاک اسوے کے منافی اور ان تعلیمات کے مخالف کشت وخون کی ایسی تلقین کرتے ہیں کہ در ندے بھی ان سے پناہ مانگیں۔جب ایک طرف رسول اللہ صلی ال کلم بنفس نفیس اس سبق آموز یا عبرت انگیز حقیقت سے نقاب کشائی فرماتے ہیں: ارْفَعُوْا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ ، فَقَدْ كَثُرَ الْقَتْلُ إِنْ نَفَعَ۔“ ( ابن ہشام والسيرة الحلبي غزوہ فتح مکہ) کہ قتل سے اپنے ہاتھ روکو۔قتل تو بہت ہو چکا اور قتل وغارت نے دنیا کو کبھی بھی فائدہ نہیں دیا۔ذرا نظر انصاف کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں کہ قتل و خون سے ہاتھ اٹھانے کی تعلیم دینے والا رحمت مجتم پاک وجود جو اپنی تمام تر زندگی دوسروں کے سکھ اور آرام کے لئے جیا، جس نے قدم قدم انسان کو ہلاکتوں سے بچانے کی سعی کی، جس نے انسان کو دکھوں اور تکلیفوں سے بچانے کے لئے سب کچھ تج دیا، تو ایسی تعلیم یا کارروائی جو قتل و خون کے راستے کشادہ کرتی ہو یا غارت گری پر مبنی ہو ، بخدا اس رحمت کامل صلی علیم کی طرف کسی طرح بھی منسوب نہیں ہو سکتی۔واللہ ! کوئی ایسا قول و عمل آپ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا ہے جو انسانیت ، انسان، یا انسانی خون کے