توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 23 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 23

توہین رسالت کی سزا { 23 ) قتل نہیں ہے خودایسی مضبوط اور حتمی ضمانت فراہم کرتا ہے تو پھر کسی شاتم و گستاخ رسول کے قتل کی تعلیم کے کوئی معنے نہیں ہیں۔اس آیت میں بھی دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کی وعید ہے۔خنزی یعنی رسوائی کے معنے کسی طور پر بھی قتل کے نہیں ہیں۔یعنی اس دنیا میں ایسے لوگ جو کفر کرتے ہیں، محض رسوائی اور ذلت ہی اٹھاتے ہیں۔رسول اللہ صلی للی علم کا کفر ، آپ کی مخالفت اور گستاخی کر کے وہ خود اپنے ہی ہاتھوں دنیا میں اپنی عزت و تکریم کا جنازہ اٹھا چکے ہوتے ہیں۔روحانی اور معاشرتی لحاظ سے گویا وہ ایک طرح مرچکے ہوتے ہیں۔انہیں جسمانی طور پر مارنے کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔اس کے ساتھ جس عذاب کی تقدیر ان کے لئے منسلک ہے وہ بھی آخرت کا عذاب ہے۔الغرض اس آیت سے بھی قطعی فیصلہ یہی قرار پاتا ہے کہ گستاخ رسول کے قتل کا عقیدہ ایسا ہے کہ جسے قرآن کریم کلیہ رد فرماتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اسی نوع کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے بیان فرماتا ہے: وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئاً يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإِيْمَانِ لَن يَضُرُّوا اللهَ شَيْئاً وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ هِ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْماً وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ( ال عمران: 177 179) ترجمہ : اور تجھے دکھ میں نہ ڈالیں وہ لوگ جو کفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔یقیناً وہ ہر گز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کچھ بھی حصہ نہ رکھے۔اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ( مقدر ) ہے۔یقیناً وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا وہ ہر گز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔اور ان کے لئے بہت دردناک عذاب ( مقدر) ہے۔اور ہر گز وہ لوگ گمان