توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 22
توہین رسالت کی سزا ( 22 )- قتل نہیں ہے طرف راغب کیا جائے۔لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کے ایک متشدد طبقے نے اس انتہائی خوبصورت تعلیم کورڈ کر کے پس پشت ڈال دیا ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر، رسول اللہ لی ایم کے نام پر اور قرآن و اسلام کے نام پر قتل و غارت اور دہشت گردی اختیار کرتے ہوئے دنیا کو اس حسین اور دلکش مذہب سے متنفر کر دیا ہے۔اگر یہی لوگ اس پاک اور دلر با الہی تعلیم پر عمل کر کے بُرائی کو نیکی سے اور سینہ کو حسنہ میں بدلنے کی سعی کرتے اور رحمۃ نمية العلمين صلی ا یکم کی عفو ورحمت سے لبریز پاک سیرت دنیا کے سامنے پیش کرتے تو یقینا آج دنیا مسلمانوں سے چھلک رہی ہوتی۔اسلام اعتراضات، نفرتوں اور دشمنیوں سے محفوظ ہوتا اور سیّد المطہرین علی ای کم کی ذات پاک و بابرکات پر گند اچھالنے والے نہ ہونے کے برابر ہوتے۔اللہ تعالیٰ کفریہ باتوں اور کفریہ اعمال سے حفاظت کی ضمانت اور تسلی دیتے ہوئے یہ بھی فرماتا ہے: " يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُم۔۔۔۔۔لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌّ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (المائدہ:42) ترجمہ : اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، یعنی وہ جو اپنے مونہوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے۔۔۔۔۔۔ان کے لئے اس دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔شاتم رسول کے قتل کے قائل کہتے ہیں کہ گالی دینے سے شاتم کا فر ہو جاتا ہے اس لئے سے قتل کرنا واجب ہے۔مگر یہ آیت کہتی ہے کہ جو کفر کرتا ہے اس کا کفر تمہیں کسی غم و حزن میں نہیں ڈال سکتا۔اس لئے اس کے بارے میں کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ اگر