توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 21 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 21

توہین رسالت کی سزا { 21 ) قتل نہیں ہے ہے کہ ان کا طریق ہے کہ جب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو ایسا کرنے والوں سے نہ صرف اعراض کرتے ہیں بلکہ اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ان کے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں اور ایسی جہالت کے مرتکبوں سے بے رغبتی اختیار کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ قتل و غارت کی بجائے دعوت الی اللہ ، نیک اعمال کی بجا آوری، برائی کو نیکی اور بدی کو احسن سے دفع کرتے ہوئے صبر کی تلقین فرماتا ہے کہ وو وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا الشَّيْئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (لحم السجده:34 تا36) ترجمہ : اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقینا کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔نہ اچھائی برائی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے ( برابر )۔ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔اور یہ مقام عطا نہیں کیا جاتا مگر اُن لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا۔اور یہ مقام عطا نہیں کیا جاتا مگر اُسے جو بڑے نصیب والا ہے۔کیسی خوبصورت تعلیم ہے کہ بُرائی کرنے والے کے مقابل پر صرف بُرائی سے پر ہیز کرنے کی تلقین نہیں کی گئی، بلکہ اس کے مقابل پر حسنہ یعنی نیکی اور احسن طریق اختیار کرنے کی رغبت دلائی ہے۔پھر اس کے نتیجے میں دشمن کے دوست بننے کی ضمانت بھی دی ہے۔یہی اسلام تعلیم کا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لانے کے لئے انسانوں کو اور ان کی زندگیوں کو محفوظ رکھا جائے اور انہیں دعوت و تبلیغ کے ذریعے ، اچھی باتوں اور نیک نمونے کے ذریعے اسلام کی