توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 351 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 351

توہین رسالت کی سزا ( 351 } قتل نہیں ہے زیادتیاں اور ظلم یاد آگئے جو وہ ماضی میں کر چکے تھے۔ان کا سر شرم کے مارے جھک گیا اور بے اختیار بول اُٹھے۔” أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَقَالَ أَنْتَ اَبَر النَّاسِ وَأَدْنَى النَّاسِ “۔یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور مجھے یہ بھی یقین ہو گیا ہے کہ آپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ احسان کرنے والے اور وعدہ وفا کرنے والے ہیں۔رسول اللہ صلی یکم نے عکرمہ سے فرمایا: "تم نے جو مانگنا ہے مانگ لو۔میری دسترس میں جو کچھ ہوا دوں گا۔“ عکرمہ نے عرض کی : ”میری بخشش کے لئے دعا کی جائے کہ دشمنیاں اور عداوتیں میں کر چکا ہوں اور جو گالیاں دے چکا ہوں وہ سب اللہ معاف کر دے۔“ آپ نے ہاتھ اٹھائے اور جناب الہی میں یوں دعا کی: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعِكْرَمَةَ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَ نِيْهَا أَوْ مَنْطَقٍ تَكَلَّم بِهِ وَ مَرْكَبٍ وَضَعَ فِيْهِ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّ عَنْ سَبِيْلِكَ۔“ اے میرے اللہ ! تو عکرمہ کی میرے متعلق وہ تمام عداوتیں، دشمنیاں، زیادتیاں اور بڑے بول جو اس نے بولے ہیں، معاف کر دے۔“ اس کے بعد عکرمہ نے عرض کی: ”حضور ! میرے لئے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: "کلمہ شہادت کثرت کے ساتھ پڑھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دو۔“ جود عکرمہ نے حضور صلی الی ایم کے سامنے عہد کیا کہ میں جتنا اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے خرچ کیا کرتا تھا، اب اس سے دو گنا اللہ کی راہ کی طرف بلانے کے لئے خرچ کروں گا۔نیز جتنی جنگیں میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے لڑی ہیں، اس سے دو گنی اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لڑوں گا۔پھر عکرمہ نے جس والہانہ انداز میں اپنے اس عہد کو نبھایا اور اللہ کی راہ میں جو