توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 347
توہین رسالت کی سزا ( 347 } قتل نہیں ہے تشنگانِ لہو پر لطف و کرم: سکتے کی فتح کے روزر سول اللہ صلی للی نیلم نے وہاں کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے سالہا سال مخالفت کی۔مسلمانوں کو زدو کوب کیا، انہیں قتل کیا، ان پر انسانیت سوز ظلم ڈھائے۔اب بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔وہ جانتے تھے کہ ان سے مخاطب ایک رحیم و کریم ذات ہے۔سب نے یک زبان ہو کر کہا: ” جو ایک شریف اور کریم بھائی اپنے خطا کار بھائیوں سے روا رکھ سکتا ہے اور جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔اس کے سوا ہم آپ سے اور کسی سلوک کی توقع نہیں رکھتے۔“ آپ نے اس پر فرمایا: میرا یہی ارادہ تھا۔اِذْهَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاء لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُم۔جاؤ تم آزاد ہو ( کسی قسم کی سزا تو کیا ) آج کا دن کسی کی ملامت کا دن ہے نہ کسی سرزنش کا۔آپ نے انہیں دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف کر دے۔آپ کا یہ ایک عام طریق تھا کہ کسی سے عفو و در گزر کا سلوک فرماتے تو اس پر ردائے دعا بھی تان دیتے تھے۔اور اگر وہ ضرور تمند ہو تا تو اسے کچھ عطا بھی فرماتے تھے۔اسلامی حکومت میں غیر مسلم شہریوں کے بارے میں ایک موقع پر فرمایا: " إِنَّهَا بَدِّلُوا الجِزْيَةَ لِيَكُونَ دِ مَاتُهُمْ كَدِمَابِنَا وَاَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا۔“(الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین (ردالمحتار ) جزء 4 صفحہ 129 - زرقانی شرح المواہب اللدنیہ، جلد 3 صفحہ 278- نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ، جلد 3، صفحہ 381 ) کہ وہ غیر مسلم جو اسلامی حکومت کے شہری ہیں اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرتے ہیں ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ( محترم و محفوظ ہیں اور ان کے اموال ہمارے اموال کی طرح ( قانونی تحفظات میں ) ہیں۔