توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 20 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 20

توہین رسالت کی سزا { 20 ) قتل نہیں ہے آیات جو صبر کی اور توہین کرنے والے سے عفو و در گز، اعراض اور صرف نظر کی تعلیم دیتی ہیں ***** اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کثرت کے ساتھ ایسی تعلیم اتاری ہے کہ جس میں مومنوں کو ہر قسم کی مشکلات، تکالیف، ایڈا، جبر و تشدد پر صبر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف لانے ،انسانیت کے شرف کو قائم کرنے اور انسان کو ہلاکتوں سے بچانے کا نام ہے۔اس کے لئے مومنوں کو ہر قسم کی قربانی دینے کی تلقین فرما کر انہیں اجر عظیم کا وارث ٹھہرایا ہے۔اس کے بر عکس بات بات پر توہین و تنقیص کا مدعا کھڑا کر کے قتل و ہلاکت اور کشت و خون سے بار بار منع فرمایا ہے۔چنانچہ درج ذیل آیات قرآنیہ انہی تعلیماتِ خداوندی کی آئینہ دار ہیں۔یہ تعلیمات رسول اللہ صلی علیم کے اور آپ کے پیروکاروں کے صدق وصفا اور صبر و عفا جیسے اخلاق حسنہ کی بھی منہ بولتی داستا نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِ الْجَاهِلِينَ ( القصص : 56) ترجمہ : اور جب وہ کسی لغو بات کو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال۔تم پر سلام ہو۔ہم جاہلوں کی طرف رغبت نہیں رکھتے۔اس آیت میں ہرزہ سرا اور لغو گو جاہلوں کو قتل کرنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ ان۔صرفِ نظر کی تعلیم دی ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ مومنوں کا نمونہ پیش فرماتا ہے اور بتاتا