توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 341 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 341

توہین رسالت کی سزا ( 341 } قتل نہیں ہے حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ اِيَّاهَا۔“ (بخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الجهاد۔۔۔۔) که بخد اوہ جو مطالبہ بھی حرم کی عزت کے لئے مجھ سے کریں گے میں اسے قبول کروں گا۔آپ کے اس فرمان میں دو باتیں بہت واضح طور پر نظر آتی ہیں جو حتمی طور پر امن و سلامتی کی ضامن ہیں اور زمین کو کشت و خون سے بچانے والی ہیں۔اوّل یہ کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جنگوں کے ذمہ دار صرف اور صرف قریش تھے۔اب حدیبیہ میں معاہدے کے ساتھ وہ آئندہ جنگوں سے دستبردار ہو رہے تھے۔اسلام کے لئے یہ فتح مبین تھی جس کے لئے شعائر اللہ کی حرمت کے لئے ہر شر ط قبول کی جاسکتی تھی۔چنانچہ رسول اللہ صلی الی یکم نے ان کی ہر شرط قبول فرمائی اور عرب سے خونریزی کے اختتام کے لئے ایک بنیادی معاہدہ طے فرمایا۔دوم یہ کہ حدیبیہ کے اس معاہدے کی شرائط بظاہر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف تھیں مگر آپ نے محض اس لئے ان شرائط کو قبول فرمایا کہ خطہ عرب میں امن و امان اور صلح و آشتی کی فضا قائم ہو جائے۔چنانچہ اس طرح آپ نے ایک نہ ختم ہونے والی خونریزی کا صدر دروازہ بند کرنے کی انتہائی اور کامیاب کوشش فرمائی۔أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا : آنحضرت صلی اہل علم کا ایک پر از رحمت طریق یہ بھی تھا کہ آپ بسا اوقات قبائل کو یا انفرادی طور پر بعض لوگوں کو (أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا يا أَسْلِمُ تَسْلَمْ) کا پیغام بھجواتے تھے۔آپ نے جب بادشاہوں کو خطوط لکھے تو انہیں بھی اسلِمُ تَسْلَم “ کا پیغام دیا۔اسی طرح بعض اوقات ہمیں اس طرح کے پیغام جنگی مواقع میں بھی نظر آتے ہیں۔اس پیغام کے دو بنیادی معنے ہیں۔