توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 339
توہین رسالت کی سزا 339 | قتل نہیں ہے نجار کے ساتھ یکساں حقوق کے مالک ہوں گے۔غرض مختلف مسلمان قبائل کے حلیف یہودی سارے مسلمانوں کے ساتھ بطور اُمّتِ واحدہ شامل سمجھے جائیں گے۔لیکن یہ شمولیت اور مساوات صرف دنیوی اور انسان کے بنیادی حقوق تک محدود ہو گی۔ورنہ دین و مذہب میں ہر شخص آزاد ہو گا۔یہودیوں کا اپنادین اور مسلمانوں کا اپنا دین ہو گا۔اس میں ایک دوسرے کو دخل دینے کی اجازت نہ ہو گی۔قومی ضرورت کے وقت ہر گروہ اپنے اپنے اخراجات کا ذمے دار ہو گا۔مسلمان اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے اور یہودی اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے۔اگر کوئی اور گروہ معاہدے میں شامل قوم سے جنگ کرنے پر آمادہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے ذمے دار ہوں گے۔“ امن و آشتی کا یہ منفر د معاہدہ ہے جس کی نظیر نہ پہلے کبھی دنیا میں موجود تھی اور نہ آئندہ اس سے بہتر کوئی معاہدہ ظہور میں آسکتا ہے۔میثاق مدینہ رہتی دنیا تک یہ شہادت پیش کرتا رہے گا کہ باوجود اس کے کہ مدینے کے یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علم کو اذیت دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے تھے، آپ نے انہیں ان خاص حالات میں ”امت واحدہ “ میں شامل رکھا۔آپ نے اسلام کو ایسے وسیع النظر، وسیع القلب اور وسیع الظرف مذہب کے طور پر پیش فرمایا جو دینا کی ہر قوم اور مذہب کو اپنے اندر سمو کر اسے ”امتِ واحدہ“ بنے کی دعوت کے ساتھ اس کے قیام کے لئے عملی لائحہ عمل بھی پیش کرتا ہے۔رسول اللہ صلی الی یکم نے ایسے ہی امن کے معاہدے مدینے کے اردگرد بسنے والے بعض قبائل سے بھی کئے۔اس کے لئے آپ نے جہاں جانا ضروری سمجھا وہاں آپ بذاتِ خود تشریف لے گئے۔مقصد یہ تھا کہ مدینے کے ماحول کو پر امن رکھا جائے۔یہاں ایک ایسا معاشرہ پیش کیا