توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 337 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 337

توہین رسالت کی سزا 337 } قتل نہیں ہے یہ ہے کھلا کھلا فرق قتل کروانے میں اور زندگی کی حفاظت کرنے میں۔خون بہانے میں اور خون بچانے میں۔اگر قائلین قتل شاتم اور توہین رسالت کے قتل کے دعویداروں کے نظریے کے مطابق شاتم یاشا تمین کو قتل کر دیا جائے تو ان میں سے وہ لوگ حاصل نہیں کئے جا سکتے جو آگے جا کر اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔جانی دشمن پر عفو و مهربانی: سراقہ بن مالک ہجرت کے سفر میں رسول اللہ صلی الی یم اور حضرت ابو بکر کے تعاقب ا میں تھا تا کہ وہ آپ کو گرفتار کر کے اور کفار مکہ کے سپر د کر کے انعام حاصل کرے۔مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ آپ دونوں کو اس کی گرفت سے باہر رکھا اور آپ کی حفاظت فرمائی بلکہ الٹا اسے آپ کے قبضے میں دے دیا۔یہ شخص آپ کا جانی دشمن تھا مگر آپ نے اسے نہ صرف معاف کیا بلکہ اسے کسری کے کنگنوں کی بشارت بھی عطا فرمائی۔چنانچہ وہ بعد میں مسلمان ہو کر اسلام کا خادم بنا۔(اسد الغابہ: سراقہ ) میثاق مدینہ، بین الا قوام امن و سلامتی کا ابدی عہد و معاہدہ: مدینے پہنچ کر سب سے پہلے رسول اللہ صلی علی کریم نے مدینے کے انصار اور مکے سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجروں میں مؤاخاة قائم کی اور بھائی چارے کا معاشرہ تشکیل دیا۔اس کے بعد آپ نے وہاں کے دوسرے عناصر یعنی یہودی قبائل، بنو قریظہ، بنو قینقاع، بنو نظیر اور غیر یہودی قبائل اوس اور خزرج کے ساتھ ایک جمہوری معاہدے کا اہتمام کیا۔یہ معاہدہ تاریخ عالم میں میثاق مدینہ کے نام سے ہمیشہ عدل و امن اور عظمت و تقدس کے مقام پر قائم رہے گا۔یہ اہم معاہدہ قریبا سنتالیس شقوں پر مشتمل تھا جس کی چند دفعات یہ تھیں۔