توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 330 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 330

توہین رسالت کی سزا 330 } قتل نہیں ہے اس معاہدے کے مندرجات، طبقات ابن سعد ذکر بعثه رسول اللہ صلی ا لم الرسل بكتبه الى الملوک ید عوھم الی الاسلام سے لئے گئے ہیں۔لیکن اس میں چند کلمات جو بریکٹ میں ہیں ' ابن کثیر کتاب الوفود وفد نجران سے بھی شامل کئے گئے ہیں تاکہ آنحضرت صلی اللہ ظلم کے فرمودات ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں اور قاری اس جامع فرمان کو ایک ہی جگہ ملاحظہ کر سکے۔) یہ تحریر جہاں مذہبی آزادی کے لئے آنحضرت صلی یی کم کی جد و جہد کی اعلیٰ مثال ہے وہاں آپ کی وسعت قلبی کی بھی آئینہ دار ہے۔اس کے ذریعے آپ نے اسلامی حدود مملکت میں نہ صرف آزادی ضمیر و ومذ ہب کو قائم فرمایا بلکہ اسے احکامِ شریعت میں بھی داخل فرمایا۔ان احکام کے ذریعے آپ نے ہر مذہب والے کو مذہبی آزادی کی کھلی فضا مہیا کی جو اسلامی سلطنت کا مطیع و محکوم تھا۔آپ نے ان کے جملہ حقوق کا تحفظ نیز فرائض کا تعین کر کے انہیں پر امن زندگی جینے کا اعزاز واعتماد عطا فرمایا۔پس ایسے وسیع الظرف انسان کے لئے ایسے وضعی واقعات پیش کرنا کہ وہ گالی دینے والے کو مروا کر دم لیتا تھا، افسوس کا مقام ہے۔رسول اللہ صلی علیم کی پاک ذات پر بہت بڑا بہتان ہے۔رسول اللہ صلی علی یکم جو انتقام لیتے تھے ، اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو سورۃ الشوری میں مذکور ہے کہ "وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَثْئُ هُمْ يَنتَصِرُونَ (41) کہ جب ان کو کوئی ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔لفظ ”يَنتَصِرُون کا ماده من ص ر یعنی 'نصر ہے۔اس کے معنے مدد کے ہیں۔یعنی "ينتصرون “ میں مدد کا لازم مفہوم شامل ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے بدلے کے لئے لفظ ”يَنْتَصِرُون استعمال فرمایا ہے ، يَنْتَقِمُونَ ن نہیں