توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 327 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 327

توہین رسالت کی سزا { 327 ) قتل نہیں ہے قابل احترام مقام کی ہتک یا بے حرمتی کی جاتی تو پھر آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعد ته گلا شام۔۔۔۔۔۔یہاں جہاد سے مراد تلوار کا جہاد نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی امن و سلامتی کی ضامن تعلیم کے نفاذ کے لئے نوع انسان کی بہبود اور شرفِ انسانیت کے قیام کی خاطر اپنے جان ، مال، عزت، نفس، وقت اور آرام کو قربان کرنے کا جہاد تھا۔جو آپ کی زندگی کے ہر لمحے میں غیر منقطع تسلسل کے ساتھ جاری تھا۔اللہ تعالیٰ کی خاطر انتقام لینا شریعت کے قیام کے بنیادی تقاضوں کے تحت تھا۔شرفِ انسان کے قیام کے لئے یہ ایک بنیادی تقاضا تھا۔مگر اس میں بھی نرمی اور عفو و در گزر کا اظہار آپ کی سرشت اور فطرت کے مقتضائے حال تھا۔لہذا ڈانٹ ڈپٹ ، درشتی ، زجر و توبیخ اور غیظ و غضب سے آپ کا دور کا بھی تعلق نہ تھا۔پس آپ کی طرف قتل و خون منسوب کرنا واضح جھوٹ ہے۔یہاں جس انتقام کی بات حضرت عائشہ نے کی ہے، اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ معصوم اور امن پسند عام لوگوں کو ظلم سے بچانے کے لئے ظالموں کے لئے سزائیں ضروری علاج ہیں۔یہ دنیا کے ہر قانون کالازمی جزو ہیں۔اسی طرح انسانوں کی عبادت کی جگہیں جو اُن کے نزدیک مقدس مقامات ہیں ، اللہ تعالیٰ کے حقوق کے قیام کے لئے ان کی حفاظت آپ کے اولین فرائض میں تھا۔جس کی ادائیگی کے لئے آپ نے بعض کے لئے سزائیں بھی تجویز فرمائیں مگر آپ کی تجویز کردہ ان سزاؤں ان میں بھی عفو و رحمت کا دامن ہمیشہ وسیع رہا۔چنانچہ معافی چاہنے والوں کو آپ نے ہمیشہ معاف فرمایا۔مقدس مقامات کی حفاظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ تعلیم نازل فرمائی کہ ان کی ہر صورت میں حفاظت کی جائے۔چنانچہ فرمایا:" وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم