توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 328 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 328

توہین رسالت کی سزا (328) قتل نہیں ہے بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيراً وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (سورۃ الحج: 41) ترجمہ: اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مذاہب کے عبادت خانوں کی حفاظت کے انتظام کا اعلان کیا گیا ہے۔اس تعلیم کے تحت رسول اللہ صلی الی ایم نے ہر مذہب و ملت کے شعائر کی حفاظت کے لئے معاہدے کئے اور ان کے تقدس کو پامالی سے بچانے کے لئے واضح ارشاد فرمائے اور ان کی حفاظت کی قطعی ضمانت مہیا فرمائی۔چنانچہ 10ھ میں نجران کے علاقے سے عیسائی اکابرین کا ایک وفد آنحضرت صلی اللی کم کی خدمت میں مدینے حاضر ہوا۔اس وفد کے ساتھ آپ کی تفصیلی بحث ہوئی اور بالآخر آپ کی طرف سے انہیں مباہلے کی دعوت بھی دی گئی۔جس کے بعد آپ نے انہیں دعوتِ اسلام بھی دی۔انہوں نے آپ کی اس دعوت کو ایمانی اور دینی لحاظ سے تو قبول نہ کیا مگر اسلام کے پر امن نظام کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ وہ آپ سے صلح کی درخواست کرتے ہیں اور جو حکم آپ انہیں دیں گے وہ انہیں قابل قبول ہو گا۔اس پر آپ نے ان سے حسب ذیل امور پر معاہدہ امن کیا کہ ” وہ دو ہزار ہتھیار دیں گے۔ان میں سے ایک ہزار ہتھیار ماہِ رجب میں اور ایک ہزار ماہِ صفر میں دینے ہوں گے ، نیز اگر یمن میں کسی مقام پر جنگ ہو تو نجران کے ذمہ بطور رعایت تیں زر ہیں اور تیس نیزے اور تیس اونٹ اور تیس گھوڑے ہوں گے۔نجران اور ان کے آس