توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 17 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 17

توہین رسالت کی سزا ( 17 ) قتل نہیں ہے پس اس آیت کو ہزار بار بھی پڑھا جائے تب بھی اس کا کوئی ایک لفظ اشارہ یا کنایہ یہ نشاندہی نہیں کرتا کہ توہین رسول کے مر تکب کو قتل کیا جائے۔نہ ہی کسی طور پر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی علیکم پر سب و شتم کرے تو لوگوں کو اختیار ہے کہ اسے قتل کر پر دیں۔ایک اور جگہ مومنوں کو جہاد سے روکنے والوں کا ذکر ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ (الاحزاب : 20) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ وہ تیز زبانوں سے تمہیں ایذاء پہنچاتے ہیں۔اس آیت کو اگر مذکورہ بالا آیت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو پھر یہ مفہوم پید اہو سکتا ہے کہ زیر بحث آیت میں يُعادِد سے مراد تیز کاٹنے والی زبانوں کے زخم ہیں یعنی وہ گالی گلوچ، ہرزہ سرائی، غیبت اور توہین وغیرہ سے یہ زخم لگاتے ہیں۔مگر ان سخت الفاظ کے ذکر کے باوجود اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرنے کی کوئی سزا تجویز نہیں فرماتا۔پس یہ ایک ظلم ہے جو توہین رسالت یا شتم رسول یا گستاخ رسول کو قتل کرنے کے دعویداروں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر ،رحمتہ للعالمین صلی الی کم پر اور اسلام پر روار کھا جاتا ہے۔الغرض رسول اللہ صلی ال نیم کے دشمنوں کے لئے جس جہنم کی آگ ، اس میں بہت لمبا عرصہ رہنے، نیز بڑی رسوائی وغیرہ کلمات کا یہ معنی یا مطلب نکالا گیا ہے کہ انہیں قتل کرنے کا اختیار ہر ایرے غیرے کو مل جاتا ہے، ایک قطعی جھوٹا اور انتہائی ظالمانہ معنی اور مطلب ہے۔اسے رسول اللہ صلی اہل علم کی طرف منسوب کرنا بذات خود آپ کی توہین ہے اور آپ کی طرف ایک گھناؤنا ظلم منسوب کرنا ہے۔جسے ہر سچا مسلمان دل و جان سے رڈ کرتا ہے۔