توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 18
توہین رسالت کی سزا 18 } قتل نہیں ہے ایک خوبصورت تعلیم انبیاء کے مخالف یا ان کی جماعتوں میں شامل ہونے والے منافق ہمیشہ ہی ان کی تکذیب اور تنقیص کرتے رہے ہیں۔اس پہلو سے رسول اللہ صلی للی نیلم کے زمانے کے مخالف یا منافق بھی کوئی الگ طرز کے نہیں تھے۔وہ آپ کو اذیتیں بھی دیتے تھے، آپ کی تکذیب بھی کرتے تھے اور آپ کے خلاف جھوٹی باتیں کرنے اور اذیت ناک باتیں تراشنے میں بھی پیش پیش تھے۔انہیں قتل کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ جہاں بھی تکذیب، تنقیص، توہین اور استہزاء والی ایسی باتیں ہوں وہاں سے وہ اٹھ آیا کریں تا کہ کسی جھگڑے یا دینگے فساد کا موقع پید اہو کر بات قتل و خون تک نہ پہنچ جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعاً “ ( النساء: 141) ترجمہ : اور یقیناً اس نے تم پر کتاب میں یہ حکم اتارا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے یا ان سے تمسخر کیا جا رہا ہے تو اُن لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مصروف ہو جائیں۔ضرور ہے کہ اس صورت میں تم معا اُن جیسے ہی ہو جاؤ۔یقیناً اللہ سب منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔اس آیت میں کسی شاتم یا تو ہین کے مر تکب کو قتل کرنے یا اس سے لڑنے جھگڑنے کی کوئی تعلیم، ہدایت یا نصیحت نہیں ہے۔بلکہ اپنے جذبات اور اپنی غیرت کی قربانی کر کے اس مجلس سے اُٹھ آنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔چنانچہ مکار فرمایا: