توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 300 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 300

توہین رسالت کی سزا 300 } قتل نہیں ہے حضرت امام ابو حنیفہ : عون المعبود فی شرح ابی داؤد میں ”کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب رسول الله صلى اليوم کی شرح میں حضرت امام ابو حنیفہ کا قول درج کیا گیا ہے کہ ذمی قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس ( سب و شتم) سے زیادہ بڑا (جرم) ان کا شرک ہے۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بتایا گیا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کے متعلق کتاب الصارم۔۔۔۔۔میں لکھا ہے کہ حضرت نعمان بن ثابت ( امام ابو حنیفہ) کا مسلک ہے کہ شاتم رسول قتل نہیں ہو گا۔کیونکہ وہ شرک پر قائم ہیں جو اس (شتم) سے بہت بڑا جرم ہے اور اس کی کوئی سزا نہیں۔حضرت امام ابو حنیفہ کا یہ فتویٰ ہے جو اپنے اندر بنیادی طور پر معقولی اور منطقی وجو ہات رکھتا ہے۔آپ کی دلیل یہ ہے کہ تم یہ جو کہتے ہو کہ رسول اللہ صلی علیکم کا شاتم لاز ما قتل ہونا چاہئے ، تو یہ ایک جذباتی بات ہے جو قرآن کے اصولوں سے ٹکرارہی ہے۔کیونکہ شرک کو قرآن کریم نے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔چنانچہ مشرک تو قتل نہ ہوں اور اس سے ادنیٰ جرائم والے قتل ہوں، اسے انسانی عقل تسلیم نہیں کرتی۔اس لئے امام ابو حنیفہ نے اس نظریئے کو بیک جنبش قلم رڈ کر دیا ہے۔امام ابو حنیفہ آئمہ اربعہ میں امام اعظم ہیں اور آپ کو دنیائے اسلام میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔مجموعی طور پر ترکی حنفی ہے۔پاکستان اور ہندوستان کی بھاری اکثریت حنفی ہے۔اسی طرح دیگر ممالک اسلامیہ میں امت کی ایک بڑی اکثریت حنفی ہے۔ان سب کے امام کا یہ فتوی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل نہیں ہے۔پس امت کی اتنی بڑی تعداد کو ایک طرف کر کے قتل شاتم کے مسئلے کو امت کا اجماع کہنا کسی طرح سچادعوی نہیں ہے۔