توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 298
توہین رسالت کی سزا 298 | قتل نہیں ہے کے ایسے نام نہاد اجماع پر امت محمدیہ ہر گز متفق نہیں ہے۔ہر سچا مسلمان جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شریعت محمدیہ ایسی شریعت نہیں ہے کہ جس کی بنیادوں کو جھوٹی اور وضعی روایات سے سینچا جائے۔یہ شریعت اللہ تعالیٰ کی نازل فرمودہ تعلیمات بینہ پر قائم اور کتب قیمہ پر استوار ہے۔اس میں ایک ذرہ برابر بھی ظالمانہ احکام ہیں نہ متشددانہ اقدام۔:M جہانتک اس دعوے کا تعلق ہے کہ ساری امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے۔اس کا ایک مختصر ساواقعاتی جائزہ پیش خدمت ہے۔حضرت ابو بکر گزشتہ صفحات میں یہ واقعہ تفصیل زیر بحث لایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کے بعد پہلے خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر نے ایک گستاخ کو قتل کی اجازت چاہنے والے شخص ابو برزہ اسلمی کو فرمایا تھا: " لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ لا ا ل م م کہ کسی غلطی، جرم یا گناہ پر قتل کی سزا مقرر کرنے کا اختیار صرف رسول اللہ صلی علی ملک کو تھا۔آپ شارع تھے۔اس حق کی بنا پر یہ آپ ہی کر سکتے تھے۔آپ کے بعد یہ حق کسی کو نہیں دیا گیا حتی کہ خلیفہ راشد کو بھی نہیں۔حضرت ابو بکر کے اس قول سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ آپ نے امت پر واضح فرمایا ہے کہ جن جرائم کے قتل کا ارشادر رسول اللہ صلی للی یکم نے فرمایا ہے ، ان کے سوا کسی اور جرم یا قصور کی سزا قتل نہیں ہے۔چنانچہ جن افراد کے قتل کا ذکر آپ نے بیان فرمایا ہے ، وہ تین لوگ ہیں۔ان میں گستاخِ رسول یا شاتم رسول کا کسی روایت میں ، کسی جگہ ، کوئی ذکر نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں: لا يَحِلُّ دَمُ امْرِيءٍ مُّسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَلَى بَعْدَ اِحْسَانِ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ وَ رَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِباً لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ