توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 294
توہین رسالت کی سزا 294} قتل نہیں ہے استدلالات پر اگر بعض علماء کی آراء اتفاق کرتی ہیں تو وہ کسی بھی تعریف کے لحاظ سے امت کا اجماع نہیں ہے۔یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ بعض مخصوص مزاج کے علماء اور حکمرانوں کے فتووں اور ان کے عمل پر اگر شریعت کے احکام استوار ہوتے ہیں تو امت مسلمہ کے لئے اس سے بڑی بد نصیبی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔آنحضرت صلی الم نے اگر یہ سزا مقرر نہیں فرمائی تھی تو باقی لوگوں کی مقرر کردہ سزائیں ان کے اپنے موقف ہیں، اسلامی احکام نہیں ہیں۔وہ لوگ نہ تو شارع ہیں اور نہ ہی وہ امت کے لئے اسوہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے اصل نمونہ اور اسوہ آنحضرت صلی یی کم کو قرار دیا ہے۔اس پاک اور پر رحمت اسوے کے خلاف کسی کا فتوی یا عمل کس طرح قابل قبول ہو سکتا ہے۔جیسا کہ اوپر ثابت کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ کہ رسول اللہ صلی علیم کو گالی دینے والے کو قتل کر دیا جائے، قرآن کریم کے خلاف، آپ کی تعلیمات اور پاک اسوے سے متصادم ہے۔یہ عقیدہ ایک گمراہ کن ، اسلام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانے والا اور آپ کی پاک ذات پر خون کے دھبے لگانے والا عقیدہ ہے۔آپ کی پیشگوئی کے مطابق امت کبھی بھی گمراہی پر اکٹھی ہوئی نہ ہو گی۔چنانچہ از منہ گزشتہ میں بھی ائمہ اس عقیدے کو ر ڈ کرتے آئے ہیں اور اس دور میں بھی اسے ناقابل تردید دلائل کے ذریعے رڈ کیا جا چکا ہے۔چنانچہ اس تناظر میں حسب ذیل چند امور قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ا: اس باب میں ایک بنیادی اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ مجموعی جائزے کے مطابق امت کے حقیقی سوادِ اعظم خلفائے راشدین، مجددین اولیاء اللہ اور ائمہ سلف ہیں۔ان کی اکثریت بلکہ وہ تمام اس مسئلے میں بالکل خاموش ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے کبھی بھی