توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 281
توہین رسالت کی سزا 281 } قتل نہیں ہے امیر عساف ابن احمد بن حجی اور شاء الدوادین۔۔۔۔۔نصرانی کی حمایت پر کمربستہ ہو گئے۔اس کی وجہ سے خود مسلمانوں میں سخت اختلاف اور انتشار پیدا ہو گیا۔نائب سلطنت نے اس مسئلے کے متعلق دو کئی مجلسیں منعقد کیں اور علمائے وقت سے بخشیں کیں۔امام ابن تیمیہ نے اس مسئلہ پر ایک کتاب ہی لکھ ڈالی جو " مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن“ سے ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔اس میں اس مسئلے پر چار پہلوؤں سے بحث کی ہے۔پہلا یہ کہ نبی کریم صلی للی کمر کے گالی دینے والے کو چاہے وہ مسلمان ہو یا کا فرقتل کر دینا چاہئے۔دوسرا یہ کہ اس کا قتل واجب ہے چاہے وہ ذمی ہی کیوں نہ ہو ، زرِ فدیہ لے کر یا اس کے ساتھ احسان کر کے اس کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔تیسرا یہ کہ گالی دینے والے کو چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، قتل کر دینا چاہئے۔اس سے توبہ نہیں کروانی چاہئے۔اگر یہ معاملہ سلطان تک پہنچ جائے اور اس پر الزام ثابت ہو جائے تو تو بہ کرنے پر بھی اس کی حد ساقط نہیں ہوتی۔چوتھا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علم کو گالی دینے والا کافر ہے چاہے وہ اس کو حلال سمجھے یا حلال نہ سمجھے۔اس مسئلے کی نوعیت چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، مگر اس میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کے وسعت علم اور ان کے اجتہادات و استنباطات کا ایک بین ثبوت ہے۔قرآن مجید، احادیث رسول اور آثارِ صحابہ و تابعین و اقوال ائمہ سلف کو جس زور و قوت کے ساتھ پیش کیا ہے، اس کتاب کے مطالعے ہی سے ہو سکتا ہے۔اس ایک مسئلے پر اتنی بڑی ضخیم کتاب کا لکھ دینا ان کے غیر معمولی علم و فضل کی ایک زبر دست شہادت ہے۔امام ابن تیمیہ کی اس مدلل بحث کے فوراً بعد ہی اس نصرانی نے اسلام قبول کر لیا اور نائب سلطنت کے سامنے اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس نے آنحضرت صلی الی یم کی شان میں بے ادبی نہیں کی اور اس پر محض جھوٹی تہمت لگائی گئی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ