توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 280
توہین رسالت کی سزا 280 | قتل نہیں ہے لوگوں کو مل گیا۔دمشق میں بہت سے نصرانی رہا کرتے تھے۔صلیبی لڑائیوں کی بناء پر نصرانیوں (عیسائیوں) اور مسلمانوں میں ایک زمانہ سے عداوت چلی آرہی تھی۔جب صلاح الدین ایوبی نے ملک شام صلیبیوں سے واپس لے لیا تو ان نصرانیں کا طرزِ عمل بدل گیا۔وہ بظاہر مسلمانوں کے دوست تھے مگر باطن میں اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔چنانچہ بھی بھی اس کا نتیجہ سب و توہین رسول کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا تھا۔شہاب الدین احمد بن حجی المتوفی 682ھ عربوں کا امیر تھا۔وہ اپنی فوج کو لے کر سلطانِ مصر کی جانب سے تاتاریوں کے خلاف لڑنے کے لئے 680ھ میں دمشق آیا تھا۔اس کا لڑکا عساف دمشق میں بس گیا تھا۔اس کے پاس ایک نصرانی (عیسائی) کا تب ملازم تھا۔اس نے آنحضرت ملا لیں کم کی شان میں کئی مرتبہ نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔اس کی یہ حرکتیں مسلمانوں کو بہت ناگوار گزریں۔امام ابن تیمیہ نے شیخ الشافعیہ شیخ زین الدین ابو محمد عبد الله الفارقی المتوفی 703ھ کو ساتھ لے کر دمشق کے نائب سلطنت امیر عز الدین ایبک الحموی المتوفی 703ھ سے ملاقات کی اور اس نصرانی کاتب کی گستاخیوں کی اطلاع دی۔امیر موصوف نے وعدہ کیا کہ وہ نصرانی کاتب کو بلا کر اس معاملے کی تحقیق کرے گا۔چنانچہ یہ دونوں شیخ وہاں سے واپس ہوئے تو ان کے ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت تھی۔اتفاق ایسا ہوا کہ راستے ہی میں اس نصرانی سے مٹھ بھیڑ ہو گئی۔اس کے ساتھ ایک عرب بدو بھی تھا۔اس کو دیکھ کر مسلمانوں نے کچھ برابھلا کہنا شروع کیا۔وہ عرب بدو نصرانی کی حمایت پر کمربستہ ہو گیا۔اور اس نے کہا کہ یہ نصرانی تم لوگوں سے اچھا ہی ہے۔یہ سن کر سارا مجمع مشتعل ہو گیا اور دونوں پر اتنے پتھر برسائے گئے کہ دونوں زخمی ہو گئے۔جب امیر عز الدین ایبک الحموی کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ بہت ہی افروختہ ہو گیا۔اس نے خیال کیا کہ مجمع کی یہ محض امام ابن تیمیہ اور شیخ زین الدین الفارقی کے اشارے سے ہوئی ہے۔اس نے فوراً ان دونوں کو بلا بھیجا۔اپنے سامنے انہیں دڑے لگوائے اور پھر انہیں مدرسہ غذارو یہ میں بند کرا دیا۔حرکت