توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 279
توہین رسالت کی سزا 279 قتل نہیں ہے امت کے لئے ایک نمونہ، ایک اسوہ اور ایک لائحہ عمل تھا جو آپ نے خود اپنے عمل سے پیش فرمایا تھا۔مگر قتل و خون اور غارتگری کے شوقین آپ کی خوبصورت سیرت کے دلکش پہلو پیش کرنے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے آپ کی منشاء کے خلاف آپ کی طرف ایسے ایسے قتل منسوب کرتے ہیں جو نہ آپ نے کئے ، نہ کروائے۔بلکہ یہ لوگ ایسی سزاؤں کو بھی آپ کی ذات اور آپ کے ناموس سے معنون کر کے پیش کرتے ہیں جو قصاص، محاربت، فساد فی الارض اور قومی جرموں کی واضح ذیل میں آتے ہیں۔حالانکہ ان سزاؤں کا آپ کے ناموس سے کسی نوع کا ناتا نہیں تھا۔یہ صرف ان کے سنگین جرموں کی طبعی اور عادلانہ جزائیں تھیں جو انہیں دی گئی تھیں۔انہیں ناحق طور پر گستاخی و توہین کے عنوانوں میں لپیٹ کر سب سے معصوم نبی، انسانی خون کے محافظ نبی ، نبی کرحمت اور رحمۃ للعالمین مال لیلی کیم کی طرف منسوب کرنا آپ پر انتہائی گھناؤنا ظلم ہے۔پس یہ ایک بہت بڑی صداقت ہے کہ اس رؤوف و رحیم نبی کے پاک اور پر رحمت ہاتھ ایک ادنی سے ظلم اور ایک قطرہ برابر خون سے بھی یکسر پاک ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍوَ بَارِكْ وَ سَلَّمٌ أَنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ کتاب ”الصارم المسلول“ کا پس منظر : اس باب کے آخر میں یہ جائزہ بھی قارئین کی نذر ہے کہ یہ کتاب کب، کیوں، کس پس منظر اور کس صورتحال میں تحریر ہوئی ؟ چنانچہ اس بارے میں مدراس یونیورسٹی شعبہ عربی، فارسی اور اردو کے ریڈر محمد یوسف کو کن عمری صاحب اپنی کتاب ”امام ابن تیمیہ“ میں زیرِ عنوان " آنحضرت کی شان میں ایک نصرانی کی گستاخی اور ہنگامہ “ تحریر فرماتے ہیں: ر جب 693ھ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ایک زبر دست ہنگامہ برپا ہو گیا۔مگر اس کے ساتھ ساتھ امام ابن تیمیہ کے غیر معمولی علم و فضل کا ایک نمایاں ثبوت بھی