توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 272 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 272

توہین رسالت کی سزا { 272} قتل نہیں ہے مایا تم نے کبھی ان پر عمل نہیں کیا کیونکہ آپ نے کبھی کفار اور منافقین پر تلوار نہیں اٹھائی۔آپ نے صرف محارب اور جنگ مسلط کرنے والوں پر دفاعی ضرورت کے تحت تلوار اٹھائی تھی۔یہ تو کتاب "الصارم۔۔۔۔۔کی اس تحریر پر کچھ تبصرہ تھا، جس میں کمزوری کی حالت پر صبر اور طاقت کی حالت میں تلوار اٹھانے کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔مگر ظلم کی انتہاء ہے کہ شاتم رسول کو قتل کرنے کے دعویداروں نے قتل و خون کے نظریے کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس کی سند کو عفو و در گزر کے شہنشاہ رحمتہ للعالمین صلی ال کمی کی طرف منسوب کیا ہے۔انہوں نے آپ کی قوت قدسیہ اور تاثیر روحانیہ کو بھی اپنے کھو کھلے دلائل اور کرم خوردہ سہاروں کی طرح ایسا کمزور قرار دیا ہے کہ گویا اگر تلوار آپ کے قبضہ قدرت میں نہ ہوتی تو آپ کبھی بھی وہ عظیم روحانی انقلاب پیدا نہ کر سکتے جو آپ نے چند سالوں میں کر کے دکھا دیا تھا۔اُن کے نزدیک آپ کی مکی زندگی (نعوذ باللہ محض ایک لاچاری اور کمزوری کی دلیل تھی اور آپ کی اصل طاقت، آپ کی تلوار تھی۔چنانچہ دیکھیں کہ جماعتِ اسلامی کے امیر مولوی مودودی صاحب کس دلیری اور اعتماد کے ساتھ لکھتے ہیں : "رسول اللہ صلی یکی 13 برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے وعظ و تلقین کاجو موئثر انداز ہو سکتا تھا اسے اختیار کیا۔مضبوط دلائل دیئے، واضح حجتیں پیش کیں، فصاحت و بلاغت اور زور خطابت سے دلوں کو گرمایا۔اللہ کی جانب سے محیر العقول معجزے دکھائے۔اپنے اخلاق اور پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا اور کوئی ذریعہ ایسانہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کیلئے مفید ہو سکتا تھا لیکن آپ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپ کی صداقت کے روشن ہو جانے کے باوجود آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی۔۔۔تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت