توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 271
توہین رسالت کی سزا { 271 } قتل نہیں ہے یہ آیت ایک حتمی صور تحال بیان کرتی ہے کہ مکے میں منافق کبھی بھی نہیں تھے ، وہاں یا مومن تھے یا کافر۔یہ دوہی گروہ تھے۔منافق صرف مدینے میں یا اس کے ارد گر د تھے۔اس لئے قرآن کریم کے مطابق اُس زیر بحث آیت کو مکی زندگی پر چسپاں کرنا واضح غلطی ہے۔کتاب "الصارم۔۔۔۔۔کی زیر بحث تحریر یہ ثابت کرتی ہے کہ صبر کی تعلیم صرف اس وقت تک ہے جب انسان کمزور ہو۔جب طاقت ہو تو صبر کی ضرورت نہیں رہتی۔یہ تعلیم یا یہ اصول اسلام کا نہیں ہے۔کسی اور مذہب کا ہو تو الگ بات ہے۔اسے اسلام یار سول اللہ صلی نیم کی طرف منسوب کرنا ان کی توہین ہے۔کمزوری کے وقت صبر کرنے اور طاقت کے وقت تلوار اٹھا :+ لینے کو بے اصولی تو کہا جاسکتا ہے کوئی تعلیم اور اصول نہیں کہا جاسکتا۔۴ وو پھر یہ کہا گیا ہے کہ ” ان کو شرعی سزا دی جاتی تو اس سے عظیم فتنہ وفساد کا اندیشہ تھا جو اُن کے اذیت والے کلمات پر صبر کرنے سے بھی عظیم تر ہوتا۔“ اس عبارت میں یہ تضاد بھی جھانکتا دکھائی دیتا ہے کہ دراصل وہ کمزور نہ تھے۔وہ سزا دینے کی طاقت رکھتے تھے مگر فتنے کے بڑھنے کے اندیشے سے سزا دینے سے رکے رہے۔ایک طرف اسے شرعی سزا کہا جارہا ہے اور دوسری طرف کسی خوف سے اس سے گریز بھی بتایا جارہا ہے۔اس طرز عمل کو مداہنت کہا جاتا ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ نے اصولی اور بنیادی طور پر منع فرمایا ہے۔رسول کریم ملی کمر کا دامن ایسی طرز عمل سے ہمیشہ اور کلیہ پاک ہے۔ه: سورۃ التوبہ اور الاحزاب کی دوسری آیات کو توہین اور اذیت والے مسئلے کے ساتھ منسلک کرنا بھی درست نہیں ہے۔دونوں آیات کے جنگ اور محاربت کے ماحول اور منظر ہیں۔ان آیات میں توہین یا اذیت کی باتیں کرنے والوں پر تلوار اٹھانے کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔کیونکہ اگر ان آیات کا منطوق یہی مناظر ہوتے تو تاریخی طور پر ثابت ہے کہ نعوذ باللہ رسول کریم