توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 261 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 261

توہین رسالت کی سزا 261 } قتل نہیں ہے عنوان ' اللہ تعالی یکمی رسولہ ویصرف عنہ اذی الناس، صفحہ 115) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الیم نے فرمایا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح کفار کی گالیوں اور ان کی لعنت کو مجھ سے دور رکھتا ہے۔وہ تو مذ قم کو گالی دیتے ہیں اور مذ تم پر لعنت کرتے ہیں مگر میں تو محمد ہوں صلی )۔یہ حدیث بخاری کتاب المناقب باب ما جاء فی اسماء الرسول صلی اللہ نام سے لی گئی ہے۔آپ کا پُر اعتماد اور بینہ پر استوار یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ وہ باتیں یا وہ لقب القاب جو گستاخوں کی جانب سے آپ کی طرف منسوب کئے گئے ، وہ آپ کی طرف نہیں بلکہ ان کے ایک مزعومہ فرد کی طرف منسوب کئے گئے تھے۔آپ کی ذات پر چونکہ وہ چسپاں ہی نہیں ہوتے تھے اس لئے وہ گالی اور وہ لعنت آپ کو نہیں پہنچتی تھی۔کیونکہ وہ اپنے مزعومہ مذمم کو ایسا کہتے ہیں اور یقیناً آپ وہ نہیں ہیں۔آپ ایک الگ محمد وجود ہیں جس کا کسی بھی مذ قم کے ساتھ کوئی مس تک نہیں۔آپ کی ذات تذلیل کرنے والوں کے وہم و گمان سے برتر ہے۔آپ کا وجو د ہی اور ہے جو ہر پہلو سے محمد ہے۔اس کا ہر قول محمد ، ہر فعل محمد، ہر سوچ محمد اور ہر فکر محمد ہے، ملی ایم۔کوئی ایسا الزام آپ پر چسپاں ہی نہیں ہوتا۔لہذا آپ ان کی توہین سے کلیہ بری ہیں۔مذکورہ بالا حقیقت پیش فرما کر آپ نے انتہائی پر اعتماد سچائی کے ساتھ آپ کی طرف منسوب کی گئی ہر منفی بات کا ہمیشہ ہمیش کے لئے رڈ فرما دیا ہے۔پس خاطر جمع رکھنی چاہئے کہ اس فرمان کے بعد در حقیقت کوئی گالی آپ تک نہیں پہنچتی۔لہذا اگر کسی نے اپنے زعم میں آنحضرت صلی علی یکم کو گالی دی بھی ہو تو آپ کے اس پیش فرمودہ پر حقیقت اور سچے اصول کے ہوتے ہوئے آپ کو اس کا ہدف قرار دینا، بذاتِ خود آپ کی شان میں گستاخی ہے۔آپ کو عمداً ، تکلفا اور زبر دستی اس گالی کا مورد ٹھہرانے کی جسارت ہے۔