توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 260
توہین رسالت کی سزا { 260 | قتل نہیں ہے اس پر کذاب یا جھوٹا قرار دینا اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی ہے اور اس مرسل کی انتہائی تو ہین اور پر کھلا کھلا شتم ہے۔اس کے زمانہ میں ایسے لوگ بے شمار ہوتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ تو ہین وشتم رسول اس کی سزا انسان کے ہاتھ میں دے دیتا تو سب مکذب و مکفر تہ تیغ کر دیئے جاتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے مرسل کو یا اس کے متبعین کو مکہ بین کے قتل کے احکام نہیں دیئے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب، توہین یا گستاخی کے بدلہ میں بسا اوقات دردناک عذابوں سے بستیوں کی بستیاں ہلاک کر دیتا ہے مگر یہ وہ خود کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے صاف واضح ہے کہ اس نے اپنے نبی اور رسول کی تکذیب اور توہین کی سزا کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں دی۔وہ اگر اس دنیا میں کسی کو سزا دیتا ہے تو اپنے طریقوں سے خود دیتا ہے۔کسی انسان کو اس کا اختیار نہیں دیتا۔پھر اگلے جہان میں انہیں جہنم کی وعید دیتا ہے۔الغرض یہ ثابت شدہ سچائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریم صلی لی ہم نے کسی کو توہین رسالت کی سزا میں کسی گستاخ اور شاتم کو قتل کرنے کا کوئی حکم ارشاد نہیں فرمایا۔پھر کتاب وو الصارم “ کابل دے دے کر جواز نکالنے کی کوشش کرنا ایک عبث مشق ہے۔کیار سول اللہ صلی الین کو گالی پہنچتی ہے ؟ یہ بھی ایک سوال ہے جس کا جواب خود رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا ہے۔اس کا جو جواب آپ نے مہیا فرمایا ہے ، اس قصے کا مکمل حل پیش کرتا ہے۔چنانچہ آپ کا اسوہ یہ تھا کہ آپ نے زبان درازی کرنے والوں ، سب و شتم کرنے والوں، لعن طعن کرنے والوں، تو ہین و تذلیل کے مر تکب لوگوں کے ایسے حملوں کا جواب صرف یہ دیا : " أَلَا تَرَوْنَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللهُ 66 عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ ، يَشْتُمُونَ مُذَمَّبًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّبًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ “ ( الارم۔۔۔۔زير