توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 255
توہین رسالت کی سزا (255 } قتل نہیں ہے جیسا کہ پہلے مستند واقعات اور قطعی حقائق سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ اسلام کبھی بھی ضعف کی حالت میں نہ تھا۔اس بارے میں یہاں مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔مگر آگے جاکر كتاب الصارم۔۔۔۔۔میں اپنے اس جواب کی تائید میں چند نام پیش کر کے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ جواب ان مالکیوں، شافعیوں اور حنبلیوں نے بھی پیش کیا ہے۔پھر اس پر خود ہی گونہ تنقید کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ جواب محل نظر ہے کیونکہ یہ واقعہ کعب بن اشرف کے قتل کے بعد کا ہے اور اس وقت تو اسلام طاقت پکڑ چکا تھا۔یعنی خود ایک طرح سے جواب بھی تحریر کیا ہے اور ساتھ معلوم بھی ہے کہ بات بن نہیں رہی۔اس لئے یہ بھی ساتھ ہی لکھ دیا ہے کہ یہ جواب محل نظر ہے۔مگر اس سب کچھ کے باوجود اپنی دلیل وہیں رکھی ہے کہ ضعف اسلام کے باعث گستاخ کو سزا نہ دی گئی تھی۔یہاں جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ کتاب ' الصارم۔۔۔۔۔۔اپنی پہلی دلیل کو بھول چکی ہے کیونکہ جب ابی بن ابی سلول نے گستاخی کا کلمہ کہا تھا تو وہ 5ھ میں کہا تھا اور وہاں اس کتاب میں دلیل یہ قائم کی گئی تھی کہ اس وقت اسلام ضعف میں تھا اس لئے سزا نہیں دی گئی۔جبکہ کعب کا واقع 2ھ کا ہے۔یہاں یہ کہا جارہا ہے کہ کعب کے زمانہ میں اسلام طاقت پکڑ چکا تھا۔اس صورتحال میں یہ واضح ہے کہ یہ لکھنے والے خود اپنے اندر ہی تضاد و ابہام کا شکار ہیں۔رسول اللہ صلی الیم نے اس یہودی کو قتل نہیں کیا یا قتل کی اجازت نہیں دی، تو آپ کے اس عمل سے چونکہ یہ صاف نظر آرہا ہے کہ شدید گستاخوں کو جو آپ کے روبرو بھی آپ پر موت بھیجتے تھے ، آپ اپنی رحمت خاص سے انہیں سزا نہیں دیتے تھے۔اس لئے حسب ذیل جواز نکالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایسی گالی نہیں تھی کہ جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔( جیسا گزر چکا ہے۔یہ قتل کا جواز اس طرح بھی نکالتے ہیں کہ عہد توڑنے کی وجہ سے ناقض عہد