توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 243 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 243

توہین رسالت کی سزا { 243 ) قتل نہیں ہے ۲: پہاڑوں کے فرشتے کی پیشکش شوال 10 نبوی میں رسول اللہ صلی اللی نیلم نے تبلیغ کے لئے عرب کے ایک بڑے شہر طائف کا سفر اختیار کیا۔یہاں بنو ثقیف آباد تھے۔ان کے رئیس اعظم عبدیالیل نے نہ صرف یہ کہ آپ کا پیغام نہ سنا بلکہ آپ کے پیچھے شہر کے اوباش اور آوارہ لوگ بھی لگا دیئے۔انہوں نے آپ پر پتھر برسائے اور آپ کو سر تا پا لہولہان کر دیا۔مسلسل تین میل تک یہ لوگ آپ کے تعاقب میں رہے اور گالی گلوچ کرتے اور پتھر برساتے رہے۔یہاں سے مکہ واپس آتے ہوئے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا: ” اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تا اگر ارشاد ہو تو میں پہلو کے یہ دونوں پہاڑ ان لوگوں پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کر دوں۔“ آپ نے فرمایا: ” ہر گز نہیں۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں سے وہ لوگ پیدا کر دے گا جو خدائے واحد کی پرستش کریں گے۔“ یہ واقعہ گزر جانے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ محبوب کبریا حضرت محمد مصطفی ملی لیکم کمزور تھے اور اسلام ضعیف تھا۔یہ واقعہ تو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے ساتھ قادر مطلق خدا کی وہ طاقت و قدرت تھی جو قوموں کو پلک جھپکنے میں پہاڑوں تلے دفن کر سکتی تھی۔مگر آپ باجو د اس طاقت پر ایک طرح کا اختیار رکھنے کے کسی انتقام کی بجائے انسانی خون کی حفاظت کرنے کو اس لئے ترجیح دیتے تھے کہ آپ کو یہ امید تھی کہ آپ کے ذریعے ہلاکتوں سے محفوظ کر دہ انسان ضرور خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کی طرف مائل ہو گا۔آپ انتہائی طاقتور ہونے کے باوجود عفو و در گزر اور صبر ورضا کو فوقیت دیتے تھے۔اسی کا اظہار آپ نے فرمایا تھا کہ ”اُمِرْتُ بِالْعَفُو۔فَلَا تُقَاتِلُوا۔“ ۳: ابو جہل کا خوف پھر سکتے میں روز مرہ ہونے والے واقعات بھی ثابت کرتے ہیں کہ باوجو د ہر طرح کے جور و جبر کے آپ کے مخالف سردار آپ سے لرزاں تھے۔مثلاً ایک دفعہ اراشہ نامی