توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 240 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 240

توہین رسالت کی سزا 240} قتل نہیں ہے ہے۔الصارم کا یہ استدلال چونکہ رسول اللہ صلی علیکم کے فیصلے اور ارشاد سے براہ راست متصادم ہے اس لئے یقیناً قابل رو ہے۔الصارم کی اسی عبارت میں اسے قتل نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے: ” کہا گان ضعیف کہ اس وقت اسلام ابھی کمزوری کی حالت میں تھا۔یہ دلیل بھی واضح طور پر خلاف حقیقت اور خلافِ حق ہے۔جیسا کہ آئندہ صفحات میں پیش کر دہ واقعات و حقائق ثابت کریں گے کہ نہ اسلام کسی وقت کمزور تھانہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی ایم کو اپنی تمامتر زندگی میں کبھی کسی قسم کا خوف لاحق ہوا تھا۔یہ فقرہ تو اسلام کے دشمنوں کی یا اسلام کے اپنے دوستوں کی دلیل ہے۔جو بیک نوک قلم لائق رڈ ہے۔رسول اللہ صلی الی ظلم کا اسے در گزر کرنا آپ کی قوت اور آپ کے جبروت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ ہر نوع کی مقدرت رکھتے ہوئے بھی دوسروں کو معاف فرماتے تھے۔جہانتک اس مذکورۃ الصدر واقعے کے زمانے کا تعلق ہے تو یہ غزوہ بنی مصطلق سے واپسی کے وقت یعنی ماہِ شعبان 5ھ کا ہے۔اس واقعے سے قبل غزوہ بدر، غزوۂ احد اور غزوہ بنی مصطلق جیسے بڑے بڑے معرکوں کے علاوہ دیگر متعدد چھوٹے چھوٹے غزوات وسر ایا میں مسلمان نمایاں طور پر فتحیاب ہو چکے تھے۔ان کے علاوہ بنو قینقاع کا واقعہ بھی ہو چکا تھا۔نیز کعب بن اشرف وغیرہ کے واقعات بھی رونما ہو چکے تھے۔ان تمام واقعات میں تو اسلام کو کسی کمزوری یا ضعف کا سامنا نہیں ہوا۔پھر صرف ایک عبد اللہ بن ابی بن سلول کے قتل کے لئے اسلام میں کونسا ضعف پیدا ہو گیا تھا کہ جس کی وجہ سے بظاہر ایک نحیف اور معذرت خواہانہ رخ اختیار کرنا لا بدی تھا۔ایسا دوہرا معیار اور دورخی یا نام نہاد حکمت عملی ، رسول اللہ صلی الم کی طرف منسوب کرنا بذات خود آپ کی اور آپ کے منصب کی توہین ہے۔سچ تو یہ ہے کہ یہ دلیل جڑ سے ہی کھو کھلی ہے