توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 235 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 235

توہین رسالت کی سزا { 235 ) قتل نہیں ہے کسی کے دل کے حالات کو کوئی نہیں جان سکتا جب تک کہ وہ خود انہیں ظاہر نہ کرے۔اس لئے یہ سوچ کر کہ فلاں ایسا ہو گا، کسی قسم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ت و کسی کے ایمان کے بارے میں کوئی دوسرا شخص فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ خود اپنے ایمان یا عدم ایمان کا اظہار یا اعلان نہ کرے۔کسی کو کوئی مرتد قرار نہیں دے سکتا جب تک کہ مرتد خود اپنے ارتداد کا اظہار یا اعلان نہ کرے۔فتوی صرف قول یا فعل کے ظاہر پر ہی لگ سکتا ہے۔جس کے بارے میں خیال بھی ہو کہ وہ نماز پڑھتا ہو گا، اسے بھی قتل کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔کجا یہ کہ جو نماز پڑھ رہا ہو اسے قتل کیا جائے۔مگر افسوس ہے کہ ان کتابوں کی تشہیر کرنے والے یہ سب جرائم رسول اللہ صلی کم ہی کا نام لے کر کرتے ہیں یا انہیں آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور زمین کو بے گناہوں اور معصوموں کے قتل سے اور ان کے خون سے رنگتے چلے جاتے ہیں۔شارع اسلام صلی الی یکم کی پیش فرمودہ تعریف مسلم: مذکورہ بالا روایت میں جو جواب رسول اللہ صلی للی نیلم نے حضرت خالد بن ولید کو دیا ہے، ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔جس کا اظہار آپ نے ایک سے زائد مرتبہ فرمایا ہے۔چنانچہ ذیل میں تین اقتباس پیش کئے جارہے ہیں۔جن سے الم نشرح ہے کہ کسی کے اسلام سے کوئی دوسرا انکار نہیں کر سکتا۔یعنی کوئی دوسرے شخص کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔یہ رسول اللہ صلی علیکم کا وہ فیصلہ ہے جو امن و سلامتی کے قیام، روح کافر گری کے قلع قمع