توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 231
توہین رسالت کی سزا 231} قتل نہیں ہے جاری ہے۔اس ناپاک مہم میں ان کے ہتھیار یہی روایات ہیں جو اپنے ہی دوستوں نے جمع کر کے پیش کی ہیں۔:4 الصارم۔۔۔۔۔۔کے اس مذکورہ بالا تبصرے سے اصل اصول تو یہی قائم ہوا ہے کہ ضروری نہیں کہ شاتم یا گستاخ کو قتل کیا جائے۔مثلاً عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں نے آنحضرت صلی یکم اور آپ کی زوجہ مطہرہ کی نعوذ باللہ بدنامی اور تذلیل کی کوشش کی مگر وہ قتل نہیں ہوا بلکہ اپنی طبعی موت مرا۔اس کے قتل نہ کرنے کی کوئی بھی تو جیہہ یا عذر تراش لیا جائے۔تو اس سے اصل اصول تو یہی قائم ہوا کہ کسی بھی عذر سے ایسے شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا۔:5 رسول اللہ صلی الی یکم کا فرمان یہ ہے کہ لوگ باتیں نہ کریں کہ آپ اپنے لوگوں کو مرواتے تھے۔اپنے اس قول میں انتہائی واضح الفاظ میں آپ نے یہ بتایا ہے کہ آپ لوگوں کو ہر گز نہیں مرواتے تھے۔مگر اس کے ساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے ہی دوست کہتے ہیں کہ نہیں، آپ انہیں مرواتے تھے اور آپ نے انہیں واقعۂ مروایا۔اور اگر کوئی کسی کومار دیتا تھا تو آپ اسے شاباش اور انعام و اکرام سے نوازتے تھے یا کم از کم اسے کچھ نہ کہتے تھے اور مرنے والے کا خون رائیگاں قرار دے دیتے تھے۔پس رسول اللہ صلی للی کم اور ان لوگوں کے خیالوں میں بعد المشرقین و المغر بین ہے۔یہ لوگ در حقیقت خود رسول اللہ صلی علی یم کی بدنامی کا موجب بنتے ہیں۔دشمن جب دشمنی کی وجہ سے توہین کرنے کی یا بد نام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی اس روش کو دشمنی پر تعبیر کر کے بے وقعت سمجھا جاتا ہے۔مگر اصل تو ہین اور بد نامی وہ ہے جو خود پیر وکار الٹے نمونے اور جھوٹے موقف اختیار کر کے کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے ان کے پیشوا یہ کہہ گئے ہیں کہ و