توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 8 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 8

توہین رسالت کی سزا { 8 } قتل نہیں ہے اختیار کرو۔کسی کو قتل کرنا ہمت اور بہادری نہیں ہے بلکہ اصل ہمت اور بہادری اور بڑا پن یہ ہے کہ تم صبر کرو۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ غیر مبہم ، بڑی واضح اور انتہائی روشن تعلیم ہے اور ایک زبر دست حکمت عملی ہے جو مخالفوں، منافقوں، مشرکوں اور اہل کتاب کی ہرزہ سرائی اور زبان درازی کے رد عمل کے طور پر مومنوں کو سکھائی گئی ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیکم کی حیات مبارکہ اور صحابہ کی ساری زندگی گواہ ہے کہ انہوں نے اس تعلیم پر صد فی صد عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم اور تعلیم کی کسی رنگ میں بھی نافرمانی نہیں کی۔پھر اللہ تعالی مزید ارشاد فرماتا ہے: ”وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلاً (الاحزاب: 49) ترجمہ : کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کر اور ان کی ایذارسانی کو نظر انداز کر دے۔اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہی کار ساز کے طور پر کافی ہے۔دَ اذَا هُمْ کے معنے کیا ہیں؟ یہی کہ ان کی اذیت کو چھوڑ دے۔اسے نظر انداز کر دے۔اسے محسوس نہ کر۔اس سے صرفِ نظر کر۔معلوم ہوتا ہے کہ قائلین قتل شاتم نے یہ آیت پڑھی نہیں یا ان کا خیال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے نعوذ باللہ اپنے پیارے رب کی اس نصیحت پر عمل نہیں کیا ؟ یہ آیت سورۃ الاحزاب کی ہے جس کا نزول 5 سے 8 ہجری تک ہو تا رہا ہے۔لیکن اس سے پہلے ابتدائی سورتوں میں بھی یہی تعلیم موجود ہے۔عملاً قائلین قتل شاتم کا خیال یہ قرار پاتا ہے کہ ایک طرف یہ تعلیم مسلسل نازل ہو رہی ہے اور دوسری طرف نعوذ باللہ آپ اس تعلیم کی طرف توجہ ہی نہیں فرمار ہے اور نہ صبر فرماتے ہیں بلکہ مسلسل قتل و خون کا حکم دیتے چلے جارہے