توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 7 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 7

توہین رسالت کی سزا ( 7 ) 7} قتل نہیں ہے اور آخرت میں بھی ہو گا۔مگر اس کا یہ نتیجہ تو کسی طور بھی اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن کریم ان قائلین قتل شاتم کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ہر یہودی کو جہاں دیکھیں قتل کر دیں۔قرآن کریم میں لعنت کا لفظ ایک ہی معنی و مفہوم میں آیا ہے۔اس کا جو معنی ایک آیت میں ہے وہی دوسری جگہ بھی ہے۔کسی جگہ بھی اس کے معنوں میں کسی کے لئے یہ اختیار داخل نہیں ہے کہ کوئی کسی پر الزام لگا کر اسے قتل کر دے۔پس اس آیت کو قتل شاتم کے لئے پیش کرنا کسی منطق، کسی فلسفے اور کسی دلیل کے مطابق درست نہیں۔اذیت اور اس پر رد عمل ان آیات کو قرآن کریم کی دیگر آیات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے کہ رسول اللہ لی لی ایم کو پہنچائی گئی اس اذیت پر آپ کا اور آپ کے صحابہ کار ڈ عمل کیا تھا؟ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بر کس طرح عمل کیا؟ اور مومنوں کو اس بارہ میں کیا کرنا چاہئے وغیرہ امور بالکل واضح ہو تعير جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لتبلونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيراً وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ“ (آل عمران: 187) ترجمہ: تم ضرور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملے میں آزمائے جائو گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا، بہت اذیتناک باتیں سنو گے۔اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ ایک بڑا باہمت کام ہے۔یہ آیت ان لوگوں کی پیش کردہ اوپر والی آیات کا واضح اور جامع جواب ہے کہ جب بھی تم اذیت کی باتیں سنو تو تمہارا رد عمل اور تمہارا شیوہ یہ ہونا چاہئے کہ صبر کو تھامو اور تقوی