توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 223 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 223

توہین رسالت کی سزا 223) قتل نہیں ہے گے۔کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہو گا کہ حدیث تھی تو سچی مگر ہم نے اسے غلط قرار دے دیا۔گویا رسول اللہ صلی کم کو نعوذ باللہ قرآن کریم کا علم نہیں تھا یا نعوذ باللہ آپ نے قرآن کریم کے خلاف بات کی تھی۔ایسا خیال کرنے والا تو عملاً اپنا تعلق رسول اللہ صلی اللی نام سے کاٹ لے گا۔لہذا نہ تو اس کا تعلق رسول سے باقی رہے گانہ قرآن سے۔لہذا دوسری صورت یہ ہے کہ چونکہ حدیث نبوی قرآن کریم سے متضاد ہو سکتی ہے نہ متصادم۔اس لئے ایسی بات کو جو قرآن کریم سے ہر حال میں ٹکرا رہی ہو ،اس بنیاد پر رڈ کر دیا جائے کہ وہ رسول اللہ صلی یی کم کا کلام نہیں ہو سکتا۔یا پھر تیسری صورت یہ ہے کہ حدیث کے وہ معنے تلاش کئے جائیں جن کی رُو سے بظاہر نظر آنے والا تضاد دور ہو جائے اور اس کا مفہوم عین قرآنی منشاء اور مفہوم کے مطابق ہو جائے۔یہ طریق ہے جو سب سے صحیح اور قرین تقوی ہے۔یہ ایک اصولی اور حقیقی صورتحال کی بحث تھی۔لیکن کتاب "الصارم۔۔۔۔میں وراثت کے مسئلے کے ساتھ گالیوں کی معافی کو جوڑ کر یہ جو لکھا گیا ہے کہ ” اسی طرح اس سے ان گالیوں کا بھی محاسبہ نہیں کیا جائے گا جو اس سے دورِ جاہلیت میں صادر ہوئیں، بنابر میں ان لوگوں کو معاف کر دیا جائے گا۔“ قیاس مع الفارق ہے۔بھلا جائیداد یا وراثت کا گالیوں سے تعلق ہی کیا ہے ؟ جائیدادوں اور گالیوں کا آپس میں کوئی جوڑ اور ناتا نہیں ہے۔ان کو ایک دوسرے پر پیش کر کے ایک نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔وراثت کا قانون قرآنی اصولوں اور قوانین میں بندھا ہوا ایک معین اور حسابی اصول ہے۔جبکہ گالی ایک لسانی اور جذباتی معاملہ ہے جس کی وراثت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔وراثت ایک سچائی ہے اور انسانی حقوق کا محکم انسانی اور قرآنی قانون ہے جبکہ