توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 219
توہین رسالت کی سزا { 219 ) قتل نہیں ہے مگر ان کی وراثت کے بنیادی خونی اور انسانی حقوق پر خط تنسیخ پھیر دیا جائے۔یہ تبرُّوهُمْ اور و تُقْسِطُوا الیھم کے خلاف ہے۔چونکہ انسان کی وراثت کو دین کے ساتھ باندھنا واضح طور پر الہی قانون اور انصاف کے بنیادی اور عالمی تصور سے متصادم ہے۔اس لئے ایسے نظریئے کو آنحضرت صلی اللہ نام کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ہاں جس قسم کے تعلق کو منقطع کرنے کا ارشاد فرمایاوہ حکم یہ ہے کہ ان سے دوستیاں نہ بڑھائی جائیں اور گہرے معاشرتی تعلقات کو فروغ نہ دیا جائے۔لہذ ا فرمایا: " إِنَّمَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِيْنَ قُتَلُوكُمْ فِي الدِّيْنِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظُهَرُوْا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ( المتحن : 10) کہ اللہ تمہیں محض ان لوگوں کے بارہ میں منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہیں نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم انہیں دوست بناؤ۔اور جو انہیں دوست بنائے گا تو یہی ہیں جو ظالم ہیں۔اسلام کی رُو سے ان لوگوں سے تعلق قطع کرنے کا حکم ہے اور ان سے احسان اور انصاف کا معاملہ اس حد تک چھوڑنے کا حکم ہے جس حد تک انہوں نے ظلم کیا تھا، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔پس صاف ظاہر ہے کہ دونوں حکموں میں مطابقت اس طرح ہو گی کہ جہاں جہاں دشمن کی طرف سے زیادتیاں کی گئی تھیں، رسول کریم صلی اللہ ہم نے ایسی آیات کی روشنی میں بعض مواقع پر مسلمانوں کو بھی جوابی سلوک کی اجازت دی۔یہاں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ جوابی سلوک کی ایسی اجازت بھی فوڑا نہیں دی بلکہ ایک وقت تک صبر کیا اور جب دیکھا کہ دشمن اس حسن سلوک سے فائدہ نہیں اٹھا رہا اور زیادتیوں پر زیادتیاں کر رہا ہے تو اُس وقت فرمایا کہ تمہیں بھی صرف اسی حد تک اجازت ہے ، اس سے زیادہ کی نہیں۔