توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 218
توہین رسالت کی سزا 218 { قتل نہیں ہے سمجھنے کے لئے ان مخصوص حالات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جو اس وقت رائج تھے۔مسلمان اور کفار آپس میں برسر پیکار تھے اور کفار مختلف انواع کی زیادتیاں کرتے تھے جس کے جواب میں قرآن کریم مسلمانوں کو بھی اتنے ہی جوابی سلوک کی اجازت دیتا تھا۔یہ کوئی عام اجازت نہیں تھی بلکہ محاربت کی بناء پر اور اس کے رد عمل میں ایک محدود اجازت تھی۔وراثت میں بھی کفار کی زیادتی ثابت ہے اس لئے ان مخصوص حالات محاربت میں جو اس وقت رائج تھے ، آنحضرت صلی اللہ کا یہ فرمانا قرآنی مفہوم کے عین مطابق تھا۔جو غیر مسلم محارب ہوں اور وہ مسلمانوں سے بر سر پیکار ہوں یا محارب کفار کے مددگار ہوں، قرآنِ کریم ان کے مالی حقوق تسلیم نہیں کرتا، تاکہ ان کی جارحانہ کارروائیوں میں ان کے اموال دشمن کی تقویت کا باعث نہ بنیں۔لیکن وہ غیر مسلم جو نہ خود محارب ہوں اور نہ محارب کفار کی مدد کرتے ہوں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " لَا يَنْهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ (المتحہ: 9) کہ اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کرو اور ان سے انصاف سے پیش آؤ۔یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے متعلق ہر گز منع نہیں فرماتا جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے لئے لڑائی نہیں کی کہ ان سے دوستیاں کرو، ان سے تعلقات بڑھاؤ وغیرہ وغیرہ۔چونکہ انہوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا تھا اس لئے ” أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا الیھم“ ان کے ساتھ حسن سلوک کرو، نیکی کرو اور انصاف کا معاملہ کرو۔خدا تعالیٰ تو ایسے لوگوں سے اس حد تک حسن سلوک اور نیکی وغیرہ کی تلقین فرماتا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں سے حسن سلوک کے سب تعلقات تو بڑھائے جائیں