توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 208 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 208

توہین رسالت کی سزا 208 | قتل نہیں ہے اس روایت کے وضعی ہونے کا ایک اور قرینہ یہ بھی ہے کہ اس میں نہ مقتول کے نام کا ذکر ہے اور نہ قاتل کے نام کا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسی اہم روایت جو ایک عقیدے کے اثبات یا اسے قائم کرنے کے لئے پیش کی جارہی ہو ، اس کے دو بنیادی کردار ہی نا معلوم الاسم اور مجہول الحال ہوں۔علاوہ ازیں اس روایت کے ترجمے پر پروفیسر غلام احمد حریری نے لکھا ہے: ” یہ حدیث حسّان بن عطیہ کے ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے۔پس یہ روایت مبینہ طور پر مرسل ہونے کی وجہ سے قطعی طور پر قابل استناد نہیں ہے۔اسے کسی عقیدے یا قانون کی بنیاد بنانا، اپنے ہاتھوں سے اس عقیدے اور قانون کے جھوٹ کی مبینہ تصدیق ہے۔ان روایتوں پر جو عنوان باندھا گیا ہے، وہ سراسر ایک جھوٹا عنوان ہے۔کیونکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ کی بیان شدہ سیرت میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ملتا جس میں صحابہ نے گالی دینے والے کو قتل کیا ہو۔یہ درست ہے کہ انہوں نے بسا اوقات ایسے جذبات کا اظہار ضرور کیا تھا مگر رسول اللہ صلی علیکم نے اس کی کبھی اجازت نہیں دی۔عبداللہ بن ابی بن سلول کوئی ایک دو دفعہ توہین و تذلیل کا مرتکب نہیں ہوا تھا۔وہ مسلسل اسی مہم پر قائم تھا۔واقعہ افک ( یعنی حضرت عائشہ زوجہ رسول پر نعوذ باللہ بد کاری کا الزام) تراشنے والا اور رسول اللہ لام کو نعوذ باللہ ) اذل کہنے والا یہی شخص تھا۔قرض دینے والے ایک گستاخ یہودی نے آپ پر دست درازی تک کی تھی۔حنین سے واپسی پر اموال کی تقسیم کے وقت آپ کو دھکیل دھکیل کر جھاڑی میں الجھا دیا گیا تھا۔اسی موقعے پر ذوالخویصرہ کی پرلے درجے کی گستاخی کا واقعہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔یہودی آگر آپ کے بستر کو پاخانے سے گند اگر گیا تھا۔طائف کے سفر میں آپ پر تشدد کیا گیا تھا۔مکہ میں 13 سال مسلسل ہر قسم کی بدنی و لسانی تحقیر و تنقیص کی گئی تھی وغیرہ