توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 206 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 206

توہین رسالت کی سزا ا: 206} قتل نہیں ہے ابو اسحاق الفزاری نے سیرت پر اپنی مشہور کتاب میں بطریق سفیان ثوری از اسماعیل بن سمیع از مالک بن عمیر سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی ا کرم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور آپ صلی للی یکم کے حق میں اس سے قبیح جملہ سنا، میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھ سکا جب تک نیزہ مار کر اسے موت کی نیند نہ سلا دیا۔یہ بات آپ صلی اللی علم پر ناگوار نہ گزری۔۲ ایک اور آدمی آپ صلی یم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور اسے قتل کر دیا اور یہ بات آپ پر نا گوار نہ گزری، اموی وغیرہ نے اسے بدیں سند روایت کیا ہے۔:M اسی طرح ابو اسحاق الفزاری نے اپنی کتاب میں حسّان بن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم صلی نیلم نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور جابر بھی تھے مشرکین نے صف آرائی کی تو ان میں سے ایک آدمی سامنے آکر رسول اللہ صلی الی یکم کو گالیاں دینے لگا۔“ اس کے بعد مبارزت اور قتل کا ذکر ہے اور لڑائی میں قتل کرنے والے صحابی کی شہادت کا بھی ذکر ہے۔اس کی شہادت پر رسول اللہ صلی للی یکم نے فرمایا: ” کیا تمہیں اس آدمی پر حیرت ہوئی جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللی علم کی مدد کی۔“ (الصارم المسلول : 105,104) جہاں یہ عنوان قطعی طور پر جھوٹا اور غلط ہے، وہاں ان روایات کا سر چشمہ بھی واضح طور پر مکدر ہے۔ابو اسحاق الفزاری کی کتاب جو سیرت کی کتاب ہے، اس کی روایت کی صحت اور اس کے استناد کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔کتاب بھی ایسی مشہور ہے کہ اس کا نام تک بھی درج نہیں کیا گیا۔خصوصاً دوسری روایت تو بالکل بے سر و پا ہے۔علاوہ ازیں اس میں کسی گالی کا ذکر