توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 205 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 205

توہین رسالت کی سزا ( 205 ) قتل نہیں ہے حالات میں ) اگر کسی یہودی سے اس کے انتقامی جوش میں تمہارا تصادم ہو اور تم اس پر غلبہ پالو تو اسے قتل کر دو۔اگر آپ کا یہ حکم عام ہوتا تو الفاظ مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ کی بجائے مَن وَجَدْتُمْ وغیرہ ہوتے۔یعنی جسے پاؤ، اسے قتل کر دو۔علاوہ ازیں جہانتک حالات کی عملی شہادت کا تعلق ہے تو اس سے واضح طور پر ثابت ہے کہ یہ حالت صرف چند گھنٹے رہی تھی۔کیونکہ دوسرے دن ہی یہود کے ساتھ از سر نو معاہدہ ہو کر امن و امان کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔گو اس کے بعد بھی چند مخصوص واقعات رونما ہوئے مگر وہ اس مذکورہ بالا واقعے سے منسلک نہیں ہیں۔تاریخ میں ان کی وجوہات اور تفصیلات الگ مذکور ہیں۔البتہ یہ حقیقت بھی کسی سے اوجھل نہیں ہے کہ یہود ہمیشہ مدینے میں رہے، مسلمانوں کی ان سے معاشرت بھی رہی اور وہ رسول اللہ صلی ال نیلم کے وصال تک آپ کے احسانات سے فیضیاب بھی ہوتے رہے۔بے سر و پا روایات اور صحابہ پر ایک الزام : كتاب الصارم۔۔۔۔۔میں ایک عنوان باندھا گیا ہے " أَصْحَابُ الرَّسُوْلُ يَقْتُلُونَ السَّابَ وَلَوْ كَانَ قَرِيبًا۔صحابہ شاتم رسول کو قتل کر دیتے تھے خواہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو تا تھا۔اس عنوان کے تحت لکھا ہے: صحابہ ” جب کسی کے بارے میں سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی الم کو گالیاں دیتا اور دکھ پہنچاتا ہے تو وہ اسے قتل کر ڈالتے اگر چہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہو تا۔اس معاملے میں آپ ان کی تائید کرتے اور اس سے خوش ہوتے ، بعض اوقات آپ ایسا کرنے والے کو اللہ اور اس کے رسول کے ” ناصر “ کا لقب دیتے۔اس کے تحت یہ روایات درج کی گئی ہیں۔