توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 204
توہین رسالت کی سزا 204 | قتل نہیں ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں یہ ذکر گزر چکا ہے، اصل بات یہ ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ سے محض ایک وقتی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے، محد وش حالات میں اور محدود وقت کے لئے یہ ایک احتیاطی اقدام تھا۔یہ کوئی عام اور مستقل حکم نہیں تھا۔نیز جب صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ دوسرے دن ہی یہود کے ساتھ امن کا نیا معاہدہ ہو گیا تھا۔(ابو داؤد كتاب الخراج والامارة والفى باب كيف كان اخراج اليهود من المدينة و ابن سعد سرية قتل كعب بن الاشرف) تو اس صورت میں یہ ہر گز قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اس معاہدے کے ساتھ اس قسم کا حکم بھی موجود رہنے دیا گیا تھا۔اس معاملے کو سمجھنے کے لئے اس منظر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر رسول اللہ صلی یم کی طرف سے یہ کوئی مستقل حکم ہوتا اور مدینے کے یہود کو مسلسل اپنی جانوں کا خوف ہو تا تو وہ اس کے متعلق ضرور واویلا کرتے مگر کسی تاریخی روایت سے ظاہر نہیں ہے کہ معاہدے کے بعد یہود کی طرف سے اس قسم کی کبھی کوئی شکایت کی گئی ہو۔پس روایت اور درایت دونوں طرح سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ قصہ وضعی ہے۔سنن ابی داؤد میں اور ابن سعد میں اس نئے معاہدے کا معین ذکر موجو د ہے۔ابن سعد میں یہ بھی ذکر ہے کہ یہ معاہدہ حضرت علی کے پاس محفوظ تھا۔لیکن کسی وجہ سے یہ معاہدہ کسی کتاب میں درج نہیں ہو سکا چنانچہ ان دونوں کتابوں میں اس کا متن موجود نہیں ہے۔اگر اس مذکورۃ الصدر واقعے میں کچھ حقیقت سمجھی جاسکتی ہے تو وہ صرف اس قدر ہے کہ جب کعب بن اشرف کے قتل کے بعد مدینے میں ایک شور پیدا ہوا اور وہاں کے یہود جوش میں آگئے تو اُس وقت آنحضرت صلی لی ایم نے یہود کی طرف سے خطرہ محسوس کر کے صحابہ سے یہ فرمایا ہو گا کہ جس یہودی کی طرف سے تمہیں خطرہ ہو اور تم پر حملہ کرے تو اپنے دفاع میں تم اس پر قابو پالو تو اسے قتل کر دو۔'مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ " کا یہی معنی ہے۔یعنی (خطرے کے ان مخصوص