توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 203 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 203

توہین رسالت کی سزا 203 } قتل نہیں ہے علم روایت کی رُو سے یہ کمزور اور ناقابل اعتماد روایت ہے۔کیونکہ ابن ہشام نے تو اسے بغیر کسی قسم کی سند کے لکھا ہے اور ابو داؤد نے جو سند دی ہے وہ اس وجہ سے کمزور اور ناقص ہے کہ اس سند میں ابن اسحاق یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ زید بن ثابت کے ایک آزاد کر دہ غلام سے سنا تھا اور اس نامعلوم الاسم غلام نے محیصہ کی ایک بیٹی سے سنا تھا ( اس لڑکی کا نام بھی معلوم نہیں ہے ) اور اس لڑکی نے اپنے باپ سے سنا تھا۔وغیرہ وغیرہ۔یہ اصول کی بات ہے کہ اس قسم کی روایت جس کے راوی بالکل نامعلوم الاسم اور مجہول الحال ہوں درجہ استناد سے گر جاتی ہے اور قابل قبول نہیں رہتی۔سوائے اس کے کہ وہ قرآن کریم اور سنت نبوی کے عین مطابق ہو۔درایت کے لحاظ سے بھی یہ قصہ درست ثابت نہیں ہوتا ، کیونکہ آنحضرت صلی اللی سیم کا عام طریق عمل اسے قطعی طور پر جھٹلاتا ہے کہ آپ نے اس قسم کا کوئی عام حکم دیا ہو۔یہ اگر کوئی عام حکم ہوتا تو اس کے نتیجے میں یقینا اور عملاً کئی قتل واقع ہو جاتے۔کیونکہ اگر اس کو اس کی ظاہری صورت میں لیا جائے تو آنحضرت صلی علیہ کم کا یہ حکم قتل و غارت گری کا ایک کھلا کھلا اور عام اعلان تھا۔ایسے واضح اور غیر مبہم حکم کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ صحابہ اس پر عمل کئے بغیر گھروں میں بیٹھے رہتے۔اس سے تو کشت و خون کی ایک تاریخ رقم ہو جاتی۔لیکن تعجب کی بات ہے کہ روایت میں بلکہ اس وقت کے تمام تاریخی ریکارڈ میں صرف ایک قتل کا ذکر ملتا ہے اور وہ بھی ایک ایسے شخص کا قتل ہے جو غیر معروف تھا۔یعنی کسی سیاسی یا مذ ہی اہمیت کا حامل نہ تھا۔اس پر مستزاد یہ کہ واقعہ بھی ایسا ہے جسے مجہول الحال راویوں کے سبب ثابت کرنا ممکن نہیں۔