توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 198 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 198

توہین رسالت کی سزا 198 قتل نہیں ہے (حضرت ابو بکر کے والد) نے رسول اللہ صلی کم کو گالی دی تو آپ نے ان کو قتل کرنا چاہا۔اور عبد اللہ ابن ابی نے رسول اللہ صلی الیکم کی تنقیص کی تو اس وجہ سے اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی الی یم سے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔ان دو واقعات کو پیش کر کے الصارم المسلول میں ساتھ ہی یہ استدلال کیا گیا ہے۔” فَتَبَتَ اَنَّ الْمُعَاذَ كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ “ کہ اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی للی کم کی مخالفت کرنے والے کا خون مباح ہے۔یعنی اسے قتل کرنا جائز ہے۔ذرا ان دونوں واقعات پر غور تو کریں کہ اگر معاملہ دونوں کی اجازت تک محدود رہتا تو شاید یہ نتیجہ نکل سکتا تھا کہ گالی دینے والے کی یا توہین و تنقیص کرنے والے کی سزا قتل ہے۔مگر جب یہ معلوم ہو جائے کہ در حقیقت ان دونوں مواقع پر رسول اللہ صلی الی ایم نے ان دونوں شخصوں کو اپنے باپوں کو قتل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی اور وہ دونوں شاتم کبھی بھی قتل نہیں کئے گئے۔پھر اس سے یہ استدلال کرنا کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا، محض ایک دھونس ہے۔یہ استدلال کسی زاویے سے بھی جائز ہے نہ درست۔ہاں اس کے برعکس ان دونوں واقعات سے یہ ضرور صاف اور واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ سب و شتم کرنے والا قتل نہیں کیا جائے گا۔رسول اللہ صلی الم نے اسے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔مگر یہاں استدلال اس قول رسول سے بالکل مخالف کیا گیا ہے۔نہ اس آیت میں قتل کی کوئی بات بیان ہوئی ہے اور نہ ان واقعات میں جو اس آیت کا سبب نزول بتائے گئے ہیں ان میں قتل کی ترغیب دی گئی ہے۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ دونوں ہی واقعات میں قتل سے واضح طور پر روکا گیا ہے۔پس یہ استدلال کسی بھی پہلو سے قابل قبول نہیں ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ابو قحافہ نے اگر آنحضرت صلی ایم کی تنقیص کی تھی تو وہ لازماً ہجرت سے پہلے ہی کی ہو گی۔کیونکہ فتح مکہ کے موقعے پر تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔جبکہ