توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 187
توہین رسالت کی سزا 187 } قتل نہیں ہے علاوہ ازیں رسول اللہ صلی علیم کی زندگی پر مشتمل بنیادی کتب تاریخ وسیر میں قبائل اور قوموں کے ساتھ آپ کے کئے ہوئے معاہدوں میں کسی ایک معاہدے میں بھی یہ شق نہیں ملتی کہ جس میں یہ لکھا ہو کہ کوئی آپ کو گالی دے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔مثلاً نمونے کے طور پر ایک معاہدہ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ بھی قرار پایا تھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ عیسائی اکابرین پر مشتمل نجران سے جو وفد آیا تھا اور اس نے آنحضرت صلی الیہ کم سے مباحثہ کیا تھا۔اس وفد نے اس مباحثے میں لاجواب ہونے پر عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی آپ کی دعوت کو تو قبول نہیں کیا تھا۔مگر اسلام کے پر امن نظام کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کی تھی کہ وہ آپ سے صلح کی درخواست کرتے ہیں اور جو حکم آپ انہیں دیں گے وہ انہیں قابلِ قبول ہو گا۔چنانچہ آپ نے ان سے حسب ذیل معاہدے پر صلح قبول کی کہ ” وہ دو ہزار ہتھیار جن میں سے ایک ہزار ہتھیار ماہِ رجب میں اور ایک ہزار ماہِ صفر میں دینے ہوں گے، نیز اگر یمن میں کسی مقام پر جنگ ہو تو نجران کے ذمے بطور رعایت تھیں زر ہیں اور تیس نیزے اور تیس اونٹ اور تیس گھوڑے ہوں گے۔نجران اور ان کے آس پاس والوں کی جان، مال، مذہب، ملک، زمین ، حاضر ، غائب اور ان کی عبادت گاہوں کے لئے اللہ تعالیٰ اور محمد نبی صلی امی کی ذمہ داری ہے۔نہ تو کوئی استقف (پادری) اس کے منصب سے ، نہ کوئی راہب اس کی رہبانیت سے ، اور نہ کوئی کاہن اس کی کہانت سے ہٹایا جائے گا۔“ آنحضرت صلی اللی کم نے انہیں ایک اور معاہدے پر مبنی حسب ذیل تحریر بھی دی جو آپ نے حضرت مغیرہ سے تحریر کروائی: ( مِنْ مُحَمَّدِ النَّبِي لِأَسْقُفِ أَبِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ وَ أَسَاقِفَةِ نَجْرَانَ وَكَهَنَتِهِمْ وَمَنْ تَبِعَهُمْ وَرُهْبَانِهِمْ أَنَّ لَهُمْ عَلَى مَا تَحْتَ أَيْدِيهِمْ مِنْ قَلِيْلٍ وَكَثِيرِ مِنْ بِيَعِهِمْ وَ صَلَوَتِهِمْ