توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 186
توہین رسالت کی سزا 186 } قتل نہیں ہے مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پہلے شتم رسول کو تکلف اور تصنع کے ساتھ کھینچ کھینچ کر نقض عہد کا موجب قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے اور پھر ناقض عہد کے قتل کا فتوی صادر کر دیا گیا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس مسئلے میں بھی اور باقی امور میں بھی انہی کمزور ، ضعیف اور وضعی روایات کو بنیاد بنا کر قرآن کریم اور سنت و احادیث نبویہ کو اس کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ہدایت کے ان بنیادی اور اصل ماخذوں کی تشریحات اُن جھوٹی اور وضعی روایات کے تحت کی گئی ہیں۔حالانکہ ان فقیہوں اور علمائے دین کا فرض تھا کہ ہر روایت کو قرآن کریم پر پیش کر کے ان کی صداقت اور صحت کو پر کھتے۔اسی طرح رسول اللہ صلی علی یم کی پاک اور پر رحمت سنت کے مطابق ان کی جانچ پڑتال کرتے۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کا طبعی نتیجہ یہی نکلا کہ مثلاً نقض عہد والے مسئلے میں درج ذیل دونوں پہلو ہی بنیادی طور پر غلط اختیار کر لئے گئے کہ ا: ۲ رسول الله صلی علی کل پر سب و شتم سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔عہد توڑنے کی سزا قتل ہے۔لہذ اسب و شتم کرنے والا لاز ما قتل کیا جائے گا۔جہانتک اس بات کا تعلق ہے کہ رسول اللہ صلی علیم پر سب و شتم سے عہد ٹوٹ جاتا ہے، تو اس سلسلے میں اگر قرآن کریم اور سنت و احادیث صحیحہ سے رہنمائی طلب کی جائے تو جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ ان میں کوئی ایسی تعلیم موجود نہیں جو یہ سکھاتی ہو کہ آپ "پرست یعنی گالی سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔جب تک خود عہد والا عہد نہ توڑے، وہ نہیں ٹوٹتا۔قرآن کریم بھی تو یہی بتاتا ہے کہ عہد کرنے والا اگر از خود عہد توڑے تو عہد ٹوٹتا ہے۔کسی دوسرے کے کہنے سے کسی کا عہد نہیں ٹوٹتا۔