توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 176
توہین رسالت کی سزا { 176 } قتل نہیں ہے اول یہ کہ امام ابن تیمیہ کی شخصیت اگر وہی ہے جو علم و فضل کے حوالے سے معروف ہے تو یہ کتاب خود بولتی ہے کہ یہ آپ کی نہیں ہے۔کسی نے کسی وقت آپ کی طرف منسوب کر دی ہے اور اسے پھر ایک خاص مزاج کے مکتبہ فکر نے آپ کے ساتھ پختہ طور پر منسلک کر دیا ہے۔چنانچہ ایسی کتابوں کے بارے میں مالکی فقہ کے عالم امام ابو العباس احمد بن عبد العزیز الہلالی المالکی المغربی اپنی کتاب ” نور البصر “ میں لکھتے ہیں: "وَقَدْ حَذَرَ الْعُلَمَاءُ مِنْ تَأْلِيْفٍ مَوْجُوْدَةٍ بِأَيْدِى النَّاسِ تُنْسَبُ إِلَى الْآبِيَّةِ، وَنِسْبَتُهَا بَاطِلَةٌ کہ علماء نے لوگوں کو ان کے پاس موجود تالیفات سے خبر دار کیا ہے جو ائمہ کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ (ان ائمہ کی طرف) باطل طور پر منسوب ہیں۔(نور البصر فی شرح خطبة المختصر صفحہ 130 دار یوسف بن تاشفین۔مکتبه العام مالک) دوم یہ کہ اگر یہ واقعہ امام ابن تیمیہ کی کتاب ہے تو افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ امام موصوف نے اس کتاب میں قرآن کریم اور سنت و سیرتِ رسول صلی للی نام سے منافی اور ان سے متصادم استدلالات کر کے امت کو ہلاکتوں کا راستہ دکھایا ہے۔منصفانہ تحقیق اور قوی شواہد کی بنیاد پر ہمار ارخ پہلی بات کی طرف ہے۔یعنی یہ کہ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی نہیں ہے۔لہذا اس کتاب میں ہم نے امام ابن تیمیہ کی بجائے کتاب الصارم۔۔۔۔۔“ میں مذکور امور پر جرح و تنقید کر کے سچائی تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ امام ابن تیمیہ متشد د طبع کے مالک تھے۔لیکن ہماری بحث یہ نہیں ہے کہ وہ طبیعت و مزاج کے کیسے تھے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ آیاتِ قرآنیہ ، سنت و سیرتِ رسول صلی للی کم اور احادیث، روایات و آثار سے ایسے استدلال جو قرآن کریم کی آیات بینہ اور حقیقی سیرت و شمائل نبوی کے سراسر مخالف ہوں ، کیونکر قبول کئے جائیں۔ظلم و تشدد اور کشت و خون