توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 172
توہین رسالت کی سزا { 172 } قتل نہیں ہے یا کسی آیت سے مثال دینا، یا آنحضرت صلی علیہ یکم کی تلاوت سے اپنی بات کو ثابت کرنا، یا ایسی حدیث روایت کرنا جو اصل مطلب کی آیت کی موافقت میں ہو ، یا نزول آیت کے موقع کا تعین کرنا، یاجو اسماء آیات میں مہم مذکور ہوں ان کا تعین کرنا، یا کسی قرآنی کلمے کا تلفظ کرنا، یا قرآنی سورتوں اور آیتوں کے فضائل بیان کرنا، یا امر قرآنی کی آنحضرت صلی ی ی ی ی یم نے جس طرح تعمیل کی اس کی شکل۔اس قسم کی ساری باتیں در حقیقت اسباب نزول میں شامل نہیں ہیں۔نہ ان باتوں کا احاطہ کرنا مفسر کے لئے ضروری ہے۔(ملخص از الفوز الکبیر باب شان نزول کی حقیقت) معزز قارئین! الحمد للہ کہ اس باب میں ہم نے وہ تمام روایات جو توہین رسالت کی سزا قتل، کے موقف کو ثابت کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہیں، قرآن کریم، سنت و اسوہ رسول ا اور مستند صحیح روایات کے ذریعے رڈ کر دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ عقیدہ اسلامی عقائد میں سے نہیں ہے بلکہ قرآن کریم، اسلام، اور رسول اللہ صلی علیم کے منشاء کے خلاف ہے۔*****