توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 171
توہین رسالت کی سزا { 171 } قتل نہیں ہے آپ کے اس مضمون کا لب لباب یہ ہے کہ صحابہ یا تابعین جہاں یہ کہتے ہیں نَزَلَتْ في كَذَا یعنی یہ آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی تو یہ کسی خاص واقعے سے مخصوص نہیں ہوتا جو آنحضرت صلی ال یکم کے مبارک زمانے میں ہوا اور نزول آیت کا سبب بنا۔ان کا یہ طریق تھا کہ وہ ایسے مواقع کا جو آپ کے زمانے میں یا اس کے بعد ہوئے ہوں، ذکر کر کے کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ آیت ایسے موقعے پر نازل ہوئی۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ آیت پوری طرح اس واقعے پر منطبق ہو ، بلکہ اصل حکم پر منطبق ہونی چاہئے۔( یعنی واقعے کی نوعیت یا اس کی صور تحال پر اگر کسی آیت کریمہ کا حکم یا تعلیم چسپاں ہو تو اسے اس کے نزول کا گویا منظر قرار دیا جائے۔) کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آنحضرت صلی ظلم کے زمانے میں کوئی واقعہ ہوا اور صحابہؓ نے اس سے متعلق سوال کیا تو اس پر آپ نے اس کا حکم کسی آیت سے اخذ فرما کر موقع پر وہ آیت تلاوت کر دی۔ایسے واقعات کو بھی بیان کرتے وقت صحابہ نَزَلَتْ في كَذَا کہہ دیا کرتے تھے۔کبھی یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ فَأَنْزَلَ اللهُ قَوْلَهُ كَذَا یعنی اللہ نے اپنا حکم اس طرح نازل فرمایا۔اس تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی علی یم کا اس آیت سے استنباط اور اس وقت قلب مبارک پر جو کچھ القاء ہو اوہ بھی وحی اور نفث فی الروع کی ایک قسم ہے۔(نفث فی الروع کا معنی ہے ، دل میں پھونکنا اور اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات جو اللہ کی طرف سے دل میں اترے) اس لئے ایسے موقع پر فانزلت کہنا جائز ہے۔ممکن ہے کوئی شخص اسے تکرار نزول سے بھی تعبیر کرلے۔محدثین و مفسرین قرآنی آیات کے تحت بہت سی ایسی چیزوں کا ذکر کر دیتے ہیں جو در حقیقت سبب نزول نہیں ہو تیں۔مثلاً صحابہ کا اپنے مباحثے میں کسی آیت کو بطور شہادت پیش کرنا،